مناظرہ رضوی اور مداری

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

         *ماضی کےجھرونکےسے*

           *جان من تم بھی ہو*

از قـــــلم

*محمدحبیب الرحمٰن علوی المداری*

ترجمان آستانئہ عالیہ قدسیہ مداریہ
 ہمیں آپکوماضی بعیدکاایک واقعہ سناتاہوں وہ بھی اس امیدپر

*شایدکہ رفتہ رفتہ لگےجان تیرےدل کو*

یہ کوئی انیس سوبیاسی عیسوی کی بات ہیے اس وقت ضلع بریلی اور اسکےاطراف و اکناف میں کچھ ناعاقبت اندیشوں کی ریشہ دوانیوں کےسبب علماءومشائخ مداریہ کے سر ایک انتہائی اور گھٹیاالزام یہ منڑھاگیاتھاکہ مداری حضرات سیدالاولیاءسرکارسیدناغوث اعظم بڑےپیردستگیررضی اللہ تعالی عنہ کی شان اقدس میں نازیباکلمات استعمال کرتےہوئے آپکی توہین و تحقیرکرتےہیں معاذاللہ تعالی

جب یہ باتیں علماءومشائخ مداریہ زادھم اللہ شرفاکوپہونچیں توان اللہ والوں نےاس الزام کی شدیدتردیداورمذمت کرتےہوئےالزام عائدکرنےوالوں سےانکےالزام کاثبوت مانگتےہوئےانہیں چیلینج کیاکہ کسی ذمہ دار مداری عالم یاشیخ کی کوئی ایک تحریر یا تقریرپیش کریں جس میں سرکاربڑےپیرکی گستاخی کی گئی ہو
مداریہ کایہ کھلااور اعلانیہ چیلینج دیکھ کر بدباطن حواس باختہ ہوگئےاور اپناالزام ثابت نہ کرسکے ہنوز وہ بےبس اور لاچارہی ہیں

اپناالزام ثابت کرنےکےبجائےان بدباطنوں نےحضرات مداریہ پردیگرقسم کےبیشمار الزامات اور اتہامات عائدکرناشروع کردیا
جس کےنتیجہ میں علماءمداریہ اور حضرات رضویہ کےمابین مناظرہ کی صورت بن گئی
کئی مرتبہ مناظرہ کی بات ہوئی مگرسرخیل رضویہ مولانااختررضاخان ازہری صاحب اور انکےحواری کچھ نہ کچھ بہانہ سازی ہی کرتےرہیے تاہم الزام تراشی سےدست کش اور تائب بھی نہ ہوئے اس قسم کےحالات کودیکھتےہوئےآرپارکی فیصلہ کن بات کویقینی بنانےکی غرض سے مکنپورشریف کےایک مداری شیر *شیخ الشیوخ شمشیرحیدری حضور صوفی سیدمسعودعالم میاں جعفری المداری دامت برکاتہم*
اٹھے اور مکنپورشریف سےسیدھابریلی ازھری صاحب کےگھرپہونچ گئےاور ان سےدوٹوک بات کہی کہ آپ مناظرہ کیلیئےتیارہوجائیں اور ہرصورت مناظرہ کےاسٹیج پرموجودرہیں اور ابھی اسی وقت مجھےاپنی دستخط اور مہرکےساتھ اپنےمناظرہ کی شرکت والی تحریرلکھ کردیں ـــ مداری شیرحضورسیدمسعودعالم میاں قبلہ حفظہ اللہ ازہری صاحب کوان کےگھرانکےصوفہ پربیٹھ کرللکارتےرہیے مگر انہوں نےمناظرہ میں شرکت کی تحریرنہ دی

المختصر
جانبین کی مرضی سے ایک مناظرہ طےپاہی گیا جس کی انجام دہی کےلیئےجانبین کی مرضی اور منشاءکےاتفاق سےسرکارعطاءرسول خواجۂ ہندسیدناغریب نوازرضی اللہ تعالی عنہ کی مقدس نگری اجمیرمعلی کومنتخب کیاگیا

اس مناظرہ میں علماءمداریہ کی جانب سےبہ حیثیت مناظر *شیربیشئہ سنیت فاتح اجمیر حضور مخدومی ڈاکٹرسیــــدمرغوب عالم میاں جعفری المداری دامت برکاتہم و متعنااللہ بطول حیاتہ کاانتخاب ہوا*
جب کہ طبقئہ رضویہ سے *مولانامختاراحمدبہیڑوی مناظر اور انکےمعاون کے بہ طور *مناظراعظم ہندعلامہ شیخ مفتی محمدانتخاب حسین قدیری مجددمرادآبادی رحمۃاللہ علیہ* منتخب کئےگئے جب کہ حضرات رضویہ کےاسٹیج پرمولانااختررضاخان ازہری صاحب بھی بہ حیثیت سرپرست رضویہ بہ نفس وجسدِ خود موجودرہیے

علماءرضویہ ہی کی مرضی اور منشاءکواپناتےہوئے *غازی ملت حضورھاشمی میاں قبلہ اور شیخ الاسلام حضورمدنی میاں قبلہ* کومناظرہ کاثالث(جج) منتخب کیاگیا
جون کامہینہ تھا
غریب فاقہ مست مداری قلندروں کاقافلہ سخت گرمیوں کی لو ہواکےطوفانی جھکڑکی مصائب برداشت کرتےہوئےتاریخ متعینہ پرراجستھان کےریگزاروں سےگذرتاہوا بیت النوراجمیرشریف پہونچا
وہ مداری جن کےبدن پرصحیح ڈھنگ کاکپڑابھی نہیں تھا
جن کوآرام دہ سواری بھی میسرنہیں تھی
جنکےپاس کفایتی زاد راہ بھی نہیں تھا
جنکےساتھ مریدوں کابہت بڑالشکربھی نہیں تھا
جنکےقافلہ میں گنتی کے چندقلندران مست الست حضوربابائےقوم وملت سرکار سیدولی شکوہ میاں جعفری مداری حسان الہندسیدناسیدمعززحسین ادیب مکنپوری
شیخ الہندقطب وقت حضورسیدناسیدذوالفقارعلی قمرمکنپوری رضی اللہ تعالی عنھم اور شیربیشئہ سنیت حضورفاتح اجمیرڈاکٹرسیدمرغوب عالم میاں قبلہ
شمشیرحیدری حضورسیدی سرکارسیدمسعودعالم میاں قبلہ اور صرف چنددیگرسادات و علماءمداریہ ہی تھے

سبحان اللہ
حضرات مداریہ اگرچہ بہ ظاہربےسروسامان تھے
لاغرتھے
کمزورتھے
لیکن ان مٹھی بھرمداریوں کاایمان فولادسےزیادہ مضبوط تھا ہزارپہاڑوں سےبھی زیادہ اٹل ھا
ان کایقین غیرمتزلزل تھا
حقانیت انکےساتھ تھی
*اللہ رسول علی فاطمہ حسن حسین  کی نصرت و حمایت پراعتمادکلی انکےخون میں شامل اور ان کامتاع حیات تھا*
وہ مولائی تھے
وہ پنجتنی تھے
حالات اور زمانہ نیزمعاشی فاقہ مستی انکی راہ نہ روک سکی
پھٹےبوسیدہ کپڑے احقاق حق کےجذبہ کوسردنہ کرسکے
تنگ دستی اور مفلوک الحالی ابطال باطل کی فکرتبدیل نہ کرسکی ــــــ

سلــــــســـــــلـــــئہ عالیہ قدسیہ مداریہ کے اجراء اور عدم اجراءکوموضوع سخن بنایاگیا
اجمیــــــــرمعـــــــلی
میں مناظرہ ہوا اور نتیجتََااللہ پاک نےاپنےان نیک اور سچے بندوں کوفتح و نصرت عطاءفرمائی

*ثالثِ مناظرہ غازئ ملت حضورھاشمی میاں قبلہ دامت برکاتہم نے اپناحقِ ثالثی اداءکرتےہوئے مناظرین رضویہ سرپرستِ رضویہ ازہری صاحب
کی موجودگی میں اسی اسٹیج سے
 *فتح مداریت کااعلانِ عام فرمادیا*
ہوناتویہ چاہیئےتھاکہ مداریوں کی طرح اپنےہی مقررکردہ جج کےفیصلہ کو رضوی بھی تسلیم کرلیتے
لیکن ایساہوانہیں اس مناظرہ کی شکست اور ناکامی کی خفت مٹانےکےلیئے ان بدباطنوں نےبریلی ہی کےباشندہ جناب محمدغوث خان صاحب نامی ایک آدمی سےعلماءومشائخ مداریہ کی کتب سےچنداقتباسات نکال کرعلماءرضویہ سےان عبارات اور انکےقائلین کےمتعلق ایک استفتاءکروایا
جس کےجواب میں رضوی فتوی گاہوں سے کتبِ مداریہ کےان اقتباسات پرکفر گمرہی بدمذہبی کےفتوےصادرکردیئےگئے
پھرانہیں فتاوی کو
*فیصلہ شرعیہ دربارۂ مداریہ*
کےنام سےایک کتابچہ کی شکل میں شائع کردیاگیا
اس کتابچہ کی اشاعت کےبعد علماءومشائخ مداریہ نےاسکاجواب و رد
*صاعقہ برخرمنِ مفتیان رضویہ*
کےنام سےترتیب دےکرشائع کردیا
نتیجتََاعلماءرضویہ پرایک طویل سکوت اور جمودطاری ہوگیا

سنــ ۲۰۰۳/۴ ـــہء کی بات ہیےماہِ شوال میں مجھ فقیرمداری کواطلاع ملی کہ اس سال رمضان المبارک کےبابرکت مہینہ میں شہرِ بمبئی کےکچھ لوگوں نےمدارس کےسفراءکوچندہ کےساتھ ایک ایک عدد فیصلہ شرعیہ بھی دی ہیے  جس کاصاف مطلب یہ سمجھاگیاکہ اکیس بائیس سال کےبعد طاغوتی فتنہ نے ایک بارپھرانگڑائی لی ہیے اور امت کاسکون و اطمینان ڈائنامیٹ کرناچاہاہیے
سنــ ۲۰۰۳/۴ ـــہء میں مناظرہ اجمیرکوایک عرصہ گذرچکاتھا ہم لوگ پڑھ لکھ کرفارغ ہوگئےتھے
جوان ہوگئےتھے

*ساداتِ مکنپورشریف کاجذبئہ اتحاد*

مولاناصاحب قبلہ

بمبئی کےاس فتنہ کی تصدیقی خبرکےبعد میں فقیرمداری مکنپورشریف پہونچا
فیصلہ شرعیہ کی دوبارہ اشاعت کی اطلاع مکنپورشریف بھی پہونچ چکی تھی
محقق مداریت استاذالعلماءحضرت علامہ مولانامفتی *سیدمنــــــورعــــــــلی میــــاں قبلہ جعفری المداری دامت برکاتہم*
سےاس بابت میری طویل مشورتی گفتگوہوئی
دوسرےدن بعدنمازِعصر میں اور محقق عصرقبلہ دونوں مکنپورشریف کےایک انتہائی نیک بزرگ اور صالح شخصیت حضورسیدظہیرالمنعم المعروف بہ ببن میاں قبلہ علیہ الرحمہ سےملے اور فیصلہ شرعیہ کےجواب و رد کےلیئے نئی تحقیقات پرمشتمل مفصل کتاب کی ترتیب واشاعت کی اجازت طلب کی
میری زبان سےجیسےہی جواب و رد کاجملہ نکلا حضورببن میاں قبلہ علیہ الرحمہ نے سختی سےمنع کرتےہوئے ایسی کسی کتاب کولکھنےروک دیا
ہم دونوں واپس آگئے لیکن جب فیصلہ شرعیہ کی لگائی ہوئی آگ کی نئی لپٹیں چمنستانِ سنیت کوخاکسترکرنےلگیں اور سیدھےسادےسنی عوام فیصلہ شرعیہ کو اسلامی فتوی سمجھ کرگمراہ ہونےلگے توپھرمیں نےتحفظِ سنیت و صیانتِ مداریت کی خاطرمکنپورشریف کادوبارہ سفرکیااور حضورمحقق عصرقبلہ سےطویل مشورتی گفتگوکےبعد یہ بات طےپائی کہ اب ان حالات میں نئی تحقیقات کےساتھ فیصلہ شرعیہ کاشرعی محاسبہ ناگزیرہوگیاہیے لہذا اسکاردِبلیغ ہوناہی چاہیئے
جس کےبعدحضورمحقق عصرقبلہ دامت فیوضھم نےایک کتاب
*ضربِ یداللہی برمصنفینِ فیصلہ شرعیہ دربارۂ مداریہ*
مرتب فرمائی
جس کی کتابت طباعت نشرواشاعت ڈیزائننگ کی تمام ترذمہ داریاں فقیرمداری نےخود انجام دیں
وہ ایک وقت تھاکہ میں بذریعہ سائیکل رات میں بارہ کلومیٹرکاسفرطےکرکے دسمبرجنوری کی شدیدٹھنڈک میں کتاب کی کمپوزنگ کرنےجاتاتھا
بات بہت دور چلی جائےگی

الحاصل

*ضربِ یداللہی برمصنفینِ فیصلہ شرعیہ دربارۂ مداریہ*
چھپ گئی
شائع ہوگئی اور پھردنیاءنےدیکھاکہ جن لوگوں نےفیصلہ شرعیہ کو واقعتاشرعی فیصلہ سمجھ لیاتھاان لوگوں نےتوبہ کیااور لاکھوں لاکھ احبابِ اہلسنت مداریت کےحامی اور مداح و ناشرہوگئے
جناب من
یہ مداریت ہیے
*یہ اتناہی ابھرےگی تم جتنادباؤگے*

والسلام

*محمـــــدحبیب الرحمن علوی المداری*
دائرۃالاشراف
جھہراؤں شریف
سدھارتھنگر
یوپی
www.qutbulmadar.org
plz visit us:

Comments

Popular posts from this blog

Hazrat syed badiuddin Ahamad zinda shah madar

Qutbulmadar histotry