Tuesday, December 12, 2017

حضور پاک کی پیش گوئی حضور زندہ شاہ مدار کے لئیے



حدیث پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں حضورزندہ شاہ مداررضی اللہ تعالی عنہ کی پیش گوئی
📚🖋📚🖋📚🖋📚🖋

حضورسیدناشیخ الشیوخ حضرت شہاب الدین سہروردی رحمت اللہ تعالی علی

حدیث پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میں حضورزندہ شاہ مداررضی اللہ تعالی عنہ کی پیش گوئی
📚🖋📚🖋📚🖋📚🖋

حضورسیدناشیخ الشیوخ حضرت شہاب الدین سہروردی رحمت اللہ تعالی علیہ نےعوارف المعارف :ص 310 پرنقل فرمایاہےکہ پیارےآقاسیدنامحمدالرسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےارشادفرمایاکہ میرےدوسوسال کےبعدتمہارےدرمیان ایک شخص خفیف الحاذہوگاصحابہ نےدریافت کیایارسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم خفیف الحاذکسےکہتےہیں پیارےنبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےفرمایاخفیف الحاذوہ شخص ہےجس کی نہ بیوی ہونہ اولاد

سبحان اللہ سبحان اللہ غیب داں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی پیش گوئی کےعین مطابق دوسوبرس بعدحضرت سیدنامدارالعلمین سیدبدیع الدین احمدزندہ شاہ مداررضی اللہ تعالی عنہ سنہ 242ھ میں اس خاک داں گیتی پرتشریف لائےنیز

ترمذی شریف جلددوم باب الزھدمیں حضرت ابی امامہ باہلی رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہے
عن ابی امامةعن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قال ان اغبط اولیائی عندی لمؤمن خفیف الحاذذوحظ من الصلوة احسن عبادة ربہ واطاعہ فی السروکان غامضافی الناس لایشار الیہ بالاصابع وکان رزقہ کفافافصبرعلی ذالک ثم نقربیدیہ فقال عجلت منیتہ قلت بواکیہ قل تراثہ (ترمذی ابواب الزھدج ثانی ص 60 )

حضرت ابوامامہ باہلی سےروایت ہےکہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےفرمایابےشک میرےولیوں میں جوسب سےزیادہ قابل رشک ہےمیرےنزدیک وہ مومن بندہ ہےجوخفیف الحاذہےنمازکابڑاوافرحصہ اس کےحصےمیں ہےوہ اپنےرب کی عبادت واطاعت بہت پوشیدگی میں بہترین طریقہ سےکرےگااوروہ لوگوں میں مستوررہےگایعنی پردوں اورنقابوں میں چھپاہوگاکہ انگلیوں سےاس کی طرف اشارہ نہیں ہوپائےگاپھرارشادفرمایاکہ دنیاسےاس کی خواہشات مٹ جائیں گی اس پررونےوالےنہیں ہوں گےیعنی اس کی بیوی بچےاوراولادنہیں ہوگی اوردنیاسے اس کی میراث نہیں ہوگی ۔
یہ روایت ابن ماجہ ،مسندامام احمداورمشکوة میں بھی کچھ فرق کےساتھ موجودہے۔

جامع ترمذی سنن ابن ماجہ اورمسندامام احمدبن حنبل کی مذکورہ حدیث پاک کےدائرےمیں حضورمدارپاک کی ذات والاصفات پوری طرح سےفٹ ہوجاتی ہےتاریخ ولایت میں آپ کےعلاوہ کوئی ایسی ذات نظرنہیں آتی جس پرحدیث مذکورہ کامفہوم کلی طورپرصادق آسکےلہذاہم یہ کہنےمیں قطعی حق بجانب ہیں کہ حضوررحمت عالم صلی اللہتعالی علیہ وسلم اس برگزیدہ الہی سےمتعلق یہ پیش گوئی فرمائی تھی جوآپ چلی اللہ تعالی علیہ وسلم کےدوسوبرس بعدحلب میں پیداہوئےاوران تمام صفات کاجامع ہوکرمنصہ شہودپرآیااورجسےدنیانےشہنشاہ اولیاءکبارحضرت سیدناسیدبدیع الدین احمدزندہ شاہ مدارقطب المدارکےنام سےجاناپہچانااس بات کوقارئین اس طرح بھی سمجھ سکتےہیں کہ حدیث پاک میں آیاہےکہ میرےدوسوبرس کےبعدتم میں خیرالناس ایک خفیف الحاذہوگا
چنانچہ سرکارمدارپاک دوسوبرس کےبعدپیداہوئےاورخفیف الحاذہوئےدوسری حدیث میں آیاکہ ایک مومن بندہ جوخفیف الحاذہوگاوہ اولیاءکرام کےنزدیک باعث رشک ہوگااب آپ دیکھیں سرکارمدارپاک پانچ سوچھیانوےسال کی عمرپاتےہیں یہ بھی باعث رشک ہےکپڑےمیلےپرانےنہیں ہوتےیہ بھی باعث رشک ہےاثرضعف ظاہرنہیں ہوتایہ بھی باعث رشک ہےچہرےپرنورخداکی بہتات کاعالم یہ کہ سات سات پڑی ہیں یہ بھی باعث رشک ہےاحیاناوسہیاناایک یادونقاب اٹھ جائےتوخلق خدابےاختیارہوکرسجدہ ریزہوجائےیہ بھی باعث رشک ہےآگےبڑھئےذوحظ من الصلوة نمازوں کابہت بڑاحصہ اس کےحصہ میں ہے
قارئین کی بھرپورتوجہ درکارایک ولی ایساہےجس کی عمرسوسال کی ہےاس میں اسےحقوق اولادبھی اداکرناہےروزی کمانےکےلئےبھی کچھ کام کرناہےاپنےاہل وعیال میں بھی کچھ وقت دیناہےنہانادھوناکھاناپیناسب کچھ لاحق ہےاورعمرسوبرس یااس سےکچھ کم یازیادہ ہےلیکن اللہ کاایک ولی ایسابھی ہےپانچ سوچھیانوےسال ہےنیزاسےتمام انسانی ضرورتوں سےبےنیازکردیاگیاہےوہ مقام صمدیت پرفائزہےنہ بیوی ہے نہ اولادنہ روزی روٹی کی فکرہےنہ کھانےپینےکی حاجت دونوں ولی اللہ اب نمازیں کس کی زیادہ ہوں گی سوسال والے کی یاپانچ سوچھیانوےسال والےکی ؟
لامحالہ آپ کوکہناپڑےگاکہ اس صورت میں پانچ سوچھیانوےسال عمرپانےوالےبزرگ کی نمازیں زیادہ ہیں سوسال عمرپانےوالےبزرک کےبالمقابل

احسن عبادة ربہ واطاعہ فی السر
وہ اپنےرب کی اطاعت وعبادت میں پوشیدگی میں بہترین طریقہ سےکرےگامدارپاک کی چلہ گاہوں پہ نظرڈالئےاللہ اللہ چٹانوں میں ،جنگلوں میں،پہاڑوں پر،گھاٹیوں میں ان مقامات پرسب سےالگ تھلگ ہوکرتنہائیوں میں پوشیدگی میں کیاہورہاہےاحسن عبادة ربہ واطاعہ فی السرکےسانچےمیں ایک شخصیت ڈھالی جارہی ہےجورسول پاک کی ایک پیش گوئی ہےجوپوری ہورہی ہےوکان غامضافی الناس لایشارالیہ بالاصابع لوگوں میں رہ کربھی اس درجہ مستورہوگاکہ کوئی اسےپہچاننےوالانہ ہوگایہاں تک کہ لوگ اس درجہ بےالتفات ہوجائیں گےکہ انگلیوں سے اشارہ بھی نہیں کرسکیں گے شیخ عبدالحق محدث دہلوی اخبارالاخیارمیں فرماتےہیں اکثراحوال برقعہ برروکشیدہ بودے آپ اکثروبیشتراپنےچہرےپرنقاب ڈالےرہتےتھےاس سےزیادہ مستورالحالی اورکیاہوگی
وکان رزقہ کفافا  اسکی روزی تھوڑی ہوگی تاریخ بتاتی ہےکہ حضرت مدارپاک نےپانچ سوچھیانوےسال کی عمرپائی جس میں صرف چالیس تک کھاناکھایابقیہ پانچ سوچھپن سال تک آپ کاروزہ رہااس درجہ طویل زندگی میں چالیس کی روزی تھوڑی ہے کہ نہیں
فصبر علی ذالک
اس پروہ صابروشاکربھی ہوگاپوری عمرحضرت مدارپاک شکربھی بجالاتےرہے کبھی شکوہ نہیں کیا۔ عجلت منیتہ  اس کی خواہشات دنیامٹ جائےگی حضرت مدارپاک ایسے فنافی اللہ بزرگ تھے کہ جنہیں دنیاکی ذرہ برابرکوئی خواہش نہیں تھی قلت بواکیہ قل تراثہ اس پررونےوالیاں بیویاں اوربچےنہ ہوں گےاوراس کی میراث بہت کم ہوگی حضرت مدارپاک خفیف الحاذتھےآپ کی زندگی مجردانہ تھی آپ کی نہ توکوئی بیوی تھی نہ اولاداورنہ تودنیاکےمال کاکوئی ذخیرہ آپ نےبطورمیراث چھوڑاتھا۔
چنانچہ مذکورہ بالا حدیث مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  کی روشنی میں حضورزندہ شاہ مداررضی اللہ تعالی عنہ کی ذات پاک نپی تلی ہے اس لئےاب اہل دیانت وعقیدت یہ کہتےہیں کہ مداروہ تم ہوجس کی بابت پیشگوئی نبی غیب داں نےفرمائی مداروہ تم ہوجسےبشارت مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کہاجاتاہے۔

سبحان اللہ سبحان اللہ
__________________________________________________


ہ نےعوارف المعارف :ص 310 پرنقل فرمایاہےکہ پیارےآقاسیدنامحمدالرسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےارشادفرمایاکہ میرےدوسوسال کےبعدتمہارےدرمیان ایک شخص خفیف الحاذہوگاصحابہ نےدریافت کیایارسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم خفیف الحاذکسےکہتےہیں پیارےنبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےفرمایاخفیف الحاذوہ شخص ہےجس کی نہ بیوی ہونہ اولاد

سبحان اللہ سبحان اللہ غیب داں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی پیش گوئی کےعین مطابق دوسوبرس بعدحضرت سیدنامدارالعلمین سیدبدیع الدین احمدزندہ شاہ مداررضی اللہ تعالی عنہ سنہ 242ھ میں اس خاک داں گیتی پرتشریف لائےنیز

ترمذی شریف جلددوم باب الزھدمیں حضرت ابی امامہ باہلی رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہے
عن ابی امامةعن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم قال ان اغبط اولیائی عندی لمؤمن خفیف الحاذذوحظ من الصلوة احسن عبادة ربہ واطاعہ فی السروکان غامضافی الناس لایشار الیہ بالاصابع وکان رزقہ کفافافصبرعلی ذالک ثم نقربیدیہ فقال عجلت منیتہ قلت بواکیہ قل تراثہ (ترمذی ابواب الزھدج ثانی ص 60 )

حضرت ابوامامہ باہلی سےروایت ہےکہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نےفرمایابےشک میرےولیوں میں جوسب سےزیادہ قابل رشک ہےمیرےنزدیک وہ مومن بندہ ہےجوخفیف الحاذہےنمازکابڑاوافرحصہ اس کےحصےمیں ہےوہ اپنےرب کی عبادت واطاعت بہت پوشیدگی میں بہترین طریقہ سےکرےگااوروہ لوگوں میں مستوررہےگایعنی پردوں اورنقابوں میں چھپاہوگاکہ انگلیوں سےاس کی طرف اشارہ نہیں ہوپائےگاپھرارشادفرمایاکہ دنیاسےاس کی خواہشات مٹ جائیں گی اس پررونےوالےنہیں ہوں گےیعنی اس کی بیوی بچےاوراولادنہیں ہوگی اوردنیاسے اس کی میراث نہیں ہوگی ۔
یہ روایت ابن ماجہ ،مسندامام احمداورمشکوة میں بھی کچھ فرق کےساتھ موجودہے۔

جامع ترمذی سنن ابن ماجہ اورمسندامام احمدبن حنبل کی مذکورہ حدیث پاک کےدائرےمیں حضورمدارپاک کی ذات والاصفات پوری طرح سےفٹ ہوجاتی ہےتاریخ ولایت میں آپ کےعلاوہ کوئی ایسی ذات نظرنہیں آتی جس پرحدیث مذکورہ کامفہوم کلی طورپرصادق آسکےلہذاہم یہ کہنےمیں قطعی حق بجانب ہیں کہ حضوررحمت عالم صلی اللہتعالی علیہ وسلم اس برگزیدہ الہی سےمتعلق یہ پیش گوئی فرمائی تھی جوآپ چلی اللہ تعالی علیہ وسلم کےدوسوبرس بعدحلب میں پیداہوئےاوران تمام صفات کاجامع ہوکرمنصہ شہودپرآیااورجسےدنیانےشہنشاہ اولیاءکبارحضرت سیدناسیدبدیع الدین احمدزندہ شاہ مدارقطب المدارکےنام سےجاناپہچانااس بات کوقارئین اس طرح بھی سمجھ سکتےہیں کہ حدیث پاک میں آیاہےکہ میرےدوسوبرس کےبعدتم میں خیرالناس ایک خفیف الحاذہوگا
چنانچہ سرکارمدارپاک دوسوبرس کےبعدپیداہوئےاورخفیف الحاذہوئےدوسری حدیث میں آیاکہ ایک مومن بندہ جوخفیف الحاذہوگاوہ اولیاءکرام کےنزدیک باعث رشک ہوگااب آپ دیکھیں سرکارمدارپاک پانچ سوچھیانوےسال کی عمرپاتےہیں یہ بھی باعث رشک ہےکپڑےمیلےپرانےنہیں ہوتےیہ بھی باعث رشک ہےاثرضعف ظاہرنہیں ہوتایہ بھی باعث رشک ہےچہرےپرنورخداکی بہتات کاعالم یہ کہ سات سات پڑی ہیں یہ بھی باعث رشک ہےاحیاناوسہیاناایک یادونقاب اٹھ جائےتوخلق خدابےاختیارہوکرسجدہ ریزہوجائےیہ بھی باعث رشک ہےآگےبڑھئےذوحظ من الصلوة نمازوں کابہت بڑاحصہ اس کےحصہ میں ہے
قارئین کی بھرپورتوجہ درکارایک ولی ایساہےجس کی عمرسوسال کی ہےاس میں اسےحقوق اولادبھی اداکرناہےروزی کمانےکےلئےبھی کچھ کام کرناہےاپنےاہل وعیال میں بھی کچھ وقت دیناہےنہانادھوناکھاناپیناسب کچھ لاحق ہےاورعمرسوبرس یااس سےکچھ کم یازیادہ ہےلیکن اللہ کاایک ولی ایسابھی ہےپانچ سوچھیانوےسال ہےنیزاسےتمام انسانی ضرورتوں سےبےنیازکردیاگیاہےوہ مقام صمدیت پرفائزہےنہ بیوی ہے نہ اولادنہ روزی روٹی کی فکرہےنہ کھانےپینےکی حاجت دونوں ولی اللہ اب نمازیں کس کی زیادہ ہوں گی سوسال والے کی یاپانچ سوچھیانوےسال والےکی ؟
لامحالہ آپ کوکہناپڑےگاکہ اس صورت میں پانچ سوچھیانوےسال عمرپانےوالےبزرگ کی نمازیں زیادہ ہیں سوسال عمرپانےوالےبزرک کےبالمقابل

احسن عبادة ربہ واطاعہ فی السر
وہ اپنےرب کی اطاعت وعبادت میں پوشیدگی میں بہترین طریقہ سےکرےگامدارپاک کی چلہ گاہوں پہ نظرڈالئےاللہ اللہ چٹانوں میں ،جنگلوں میں،پہاڑوں پر،گھاٹیوں میں ان مقامات پرسب سےالگ تھلگ ہوکرتنہائیوں میں پوشیدگی میں کیاہورہاہےاحسن عبادة ربہ واطاعہ فی السرکےسانچےمیں ایک شخصیت ڈھالی جارہی ہےجورسول پاک کی ایک پیش گوئی ہےجوپوری ہورہی ہےوکان غامضافی الناس لایشارالیہ بالاصابع لوگوں میں رہ کربھی اس درجہ مستورہوگاکہ کوئی اسےپہچاننےوالانہ ہوگایہاں تک کہ لوگ اس درجہ بےالتفات ہوجائیں گےکہ انگلیوں سے اشارہ بھی نہیں کرسکیں گے شیخ عبدالحق محدث دہلوی اخبارالاخیارمیں فرماتےہیں اکثراحوال برقعہ برروکشیدہ بودے آپ اکثروبیشتراپنےچہرےپرنقاب ڈالےرہتےتھےاس سےزیادہ مستورالحالی اورکیاہوگی
وکان رزقہ کفافا  اسکی روزی تھوڑی ہوگی تاریخ بتاتی ہےکہ حضرت مدارپاک نےپانچ سوچھیانوےسال کی عمرپائی جس میں صرف چالیس تک کھاناکھایابقیہ پانچ سوچھپن سال تک آپ کاروزہ رہااس درجہ طویل زندگی میں چالیس کی روزی تھوڑی ہے کہ نہیں
فصبر علی ذالک
اس پروہ صابروشاکربھی ہوگاپوری عمرحضرت مدارپاک شکربھی بجالاتےرہے کبھی شکوہ نہیں کیا۔ عجلت منیتہ  اس کی خواہشات دنیامٹ جائےگی حضرت مدارپاک ایسے فنافی اللہ بزرگ تھے کہ جنہیں دنیاکی ذرہ برابرکوئی خواہش نہیں تھی قلت بواکیہ قل تراثہ اس پررونےوالیاں بیویاں اوربچےنہ ہوں گےاوراس کی میراث بہت کم ہوگی حضرت مدارپاک خفیف الحاذتھےآپ کی زندگی مجردانہ تھی آپ کی نہ توکوئی بیوی تھی نہ اولاداورنہ تودنیاکےمال کاکوئی ذخیرہ آپ نےبطورمیراث چھوڑاتھا۔
چنانچہ مذکورہ بالا حدیث مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  کی روشنی میں حضورزندہ شاہ مداررضی اللہ تعالی عنہ کی ذات پاک نپی تلی ہے اس لئےاب اہل دیانت وعقیدت یہ کہتےہیں کہ مداروہ تم ہوجس کی بابت پیشگوئی نبی غیب داں نےفرمائی مداروہ تم ہوجسےبشارت مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کہاجاتاہے۔

سبحان اللہ سبحان اللہ
__________________________________________________


Wednesday, November 29, 2017

عرس مدار اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی تقریبات  دارالنور  مکنپور شریف میں www.qutbulmadar.org


2/3/4/,

 فروری/2018 جمعہ/سنیچر /اتوار/ مطابق15/    سے ابتدا ہوتی ہے پھر 16 کو اور 17 کو جمادیالمدار,/8 بجےدن میں  حویلی  سجادگی  میں قرآن خوانی ہوتی ہے بعدہ حلقئہ ذکر 4/ شام کوسجادہ نشین کا قافلہ درگاہ عالیہ پر روانہ  ہوتا ہے  اور صاحب سجادہ خانقاہ میں اپنے  جدیہ اذکار مخصوصہ ادا کرتے ہیں  آمد کشتی ہوگی  ملنگان عظام  دمال کرینگے اسکے صدرالمشائخ پیر طریقت حضرت علامہ سید مجیب الباقی  مداری  صدر سجادہ نشین موروثی تخت نشین خانقاہ میں تخت سجادگی پر جلوہ بار ہونگے تمام
باز شامل ہوکر اپناخاص اندازپیش کرینگے اور روح پرور مناظر لوگ اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کرینگے پھرساری رات  جلسہ عیدمیلادالنبی  منعقد ہوگا  علماء مشائخ  اپنے قیمتی اورنایاب خطابات سے نوازینگے. زیادہ. مرلومات. کے لئیے  ان. نمبرات پر. رابطہ. کرے. 99838360930www.qutbulmadar.org.  



مکن پور شریف کا تعارفی خاکہ

دارالنور مکن پورشریف 

یہ وہ مقدس آبادی ہےکہ جسے حضور مدار پاک قدس سرہُ نے سنہ (818)ھجری میں اپنے قدوم پاک سےسرفراز

 فرماکرمسلمانوں کا قبلہ حاجات بنادیا تھا~حضور قطب المدارقدس سرہ کے قدموں کی بدولت اس مقدس بستی کا ہر گھر مسلمانوں کی تربیت گاہ اور سنیوں کا مرکزعقیدت ہے~ہندوستان کی تاریخ پڑھنے والا ہر شخص یہ بات جانتاہے کہ جب کبھی ہندوستانی.امراءوسلاطین کسی گردش کاشکار ہوئے تو انھوں نےاسی.آستانہ کا رخ کیا~یہئ سبب ہے کہ وسائل لی حدرجہ.کمی کےباوجودتقریباچار صدی پیشتربھی اسی آستانہ مقدسہ پرسفینۃ الاولیاء کی روایت کے مطابق پانچ لاکھ انسانوں کامجمع ہوا کرتا تھااورآج بھی ہزار امتداد زمانہ کے باوجود اس درگاہ عالیہ پرارباب سیاست سے لیکرعام انسانوں تک کا ایک نہ رکنے والاسلسلہ بندھا رہتا ہے~خانقاہی نظم ونسق اوردستورالعمل کی جوپاکیزگی اس مقدس خانقاہ میں دیکھنے.کوملتی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے~عرس زندہ شاہمدار کی ابتداءیوں تو6/جمادی الاول روضئہ قطب المدار کی گل پوشی سے ہی ہوجاتی ہےمگر باضابطہ طور پرعرس پاکی تقریبات17/16/15/جمادی الاول کو انجام پزیر ہوتی ہیں~خصوصیت کے ساتھ17/16/جمادی المدار کی تاریخ میں خانقاہ زندہ شاہ مدارکے حقیقی وموروثی سجادہ نشین وتخت نشین حسب روایت قدیمہ خاص خانقاہ عالیہ کے اندرتخت سجادگی پر جلوہ افروز ہوتے ہیں مگر موجودہ دور میں ایک قابل افسوس بات تقریبا تمام خانقاہوں اور دینی درسگاہوں میں عام ہوگئ ہے کہ محض ناموری اور جھوٹی شہرت اوردولت اندوزی کی غرض سے بہت سارے نااہل افرادکچھ ایسے مناسب والقاب اپنی طرف منسوب کرلیتے ہیں کہ جنکے وہ قطعئ حقدار اور اہل نہیں ہوتےبایں وجہ عام.لوگوں کو اصل صاحب منصب اور اصل حقدار کوپہچاننا مشکل ہوجاتا ہےمگروہ چونکہ حرص وطمع کے پھندے میں کچھ اسطرح جکڑے ہوئے ہوتے ہیں کہ انھیں ان مناصب والقاب کی بے حرمتی کا کوئ احساس نہیں ہوتااور وہ مسلسل ان مناصب والقاب کی ناقدری پر آمادہ رہتے ہیں~

سید ظفر مجیب مداری
ولی عہد خانقاہ مداریہ مکنپور شریف
9838360930
www.qutbulmadar.org

Saturday, September 30, 2017

خانقاہ مداریہ کے سجادہ نشین کا تبلیغی سفر

خانقاہ مداریہ مکن پورشریف کےسولہویں سجادہ نشین 
                 کا 
        *تبلیغی دورہ*

 صدرالمشائخ سرگروہ سلسلئہ مداریہ حضرت علامہ الحاج پیرصوفی سید
*محمدمجیب الباقی* جعفری مداری صدرسجادہ نشین وتخت نشین خانقاہ *سیدناحضورزندہ شاہ مدار*مکن پورشریف ضلع کانپورنگریوپی 
مورخہ 15ستمبر2017 عیسوی کودارالنورمکن پورشریف سے تبلیغ دین رسول وترویج سلسلئہ عالیہ مداریہ کےلئےروانہ ہوئےاس سفرمیں سب سےپہلےآپ نےمہاراشٹرکےشہرآکولامیں قدم رنجہ فرمایا اوراس دیارمیں تعینات سلسلئہ مداریہ کےخلفاءوملنگان عظام کی ایک خصوصی میٹنگ لی اورسبکو اشاعت دین وترویج سلسلہ کی تاکیدفرمائی اوربہت سارےطالبان صادق الاعتقادکو داخل سلسلئہ مداریہ فرماکر فیوض وبرکات سےمالامال کیاپورےسفرمیں سلسلئہ مداریہ کےممتازعالم دین محقق ومصنف حضرت علامہ مفتی محمدقیصررضا علوی حنفی مداری اورولئعہدسجادہ نشین صاحب فضیلت حضرت علامہ سیدظفرمجیب جعفری مداری  آپکےہمرکاب رہے اور ہرمجلس میں حاضرین کو بیش قیمت دینی و مذہبی گفتگواورپرمغرخطابات سےنوازتےرہے بعدہ 
19 ستمبر2017 بروزبدھ حضورصدرالمشائخ حضرت علامہ الحاج پیرصوفی سیدمحمدمجیب الباقی جعفری مداری مدظلہ العالی نےشہرناندیڑکواپنےقدوم میمنت لزوم سےسرفرازفرمایا اوروسرنی ناندیڑمیں آرام فرمامشہوربزرگ حضرت شاہ میرمداری قدس سرہ کےآستانئہ عالیہ پرمنعقدجلسئہ یادشہدائےکربلا میں شرکت فرمائی جلسئہ ھذامیں ولئعہد سجادہ نشین حضرت علامہ سید محمدظفرمجیب جعفری مداری 
نےفضائل اہلبیت سےمتعلق پرمغزخطاب فرمایا جبکہ خصوصی خطاب اہلسنت کی مقتدرشخصیت و مایہ نازمحقق حضرت علامہ مفتی محمدقیصررضا علوی حنفی مداری نےفرمایا 
حضورصاحب سجادہ پیرصوفی  سرکارسیدمجیب الباقی جعفری کی رقت انگیزدعاءپر جلسےکااختتام ہوا 
بعدہ 21 ستمبر کی صبح حضور صاحب سجادہ مع مریدین ومعتقدین شہرناندیڑکےکچھ حضرات کی دعوت پرتھوڑی تھوڑی دیرکیلئےکئی گھروں میں قدم رنجہ فرمایا اورپھردوپہربارہ بجے ناندیڑشہرسےپینسٹھ  کلومیٹردور شرڈشاہ پورکیلئے روانہ ہوگئے اس جگہ ایک اونچی پہاڑی پر حضورملک العارفین سیدناسیدبدیع الدین احمدزندہ شاہ مدارقدس سرہ کی چلہ گاہ ھے نیز حضورمدارالعٰلمین کےخلیفئہ اجل سرکارسیدناسیدجمال الدین جان من جنتی مداری قدس سرہ کی بھی چلہ گاہ ھے حضورصاحب سجادہ نےان دونوں مقدس مقامات پرحاضری دی نیز پہاڑی کےنیچےآبادی کےاندر واقع مسجدمداریہ میں نمازظہراداکی گئی پھربعدنماز ایک جلسےکابھی انعقادہوا جسمیں علامہ مفتی محمد قیصررضاصاحب قبلہ علوی حنفی مداری اورولئعہدسجادہ نشین علامہ سیدظفرمجیب جعفری مداری کےخطابات ہوئے 
بعدہ صلا ة وسلام ہواور حضورصاحب سجادہ کی رقت انگیزدعاءپرجلسےکااختتام ہوا اسی جگہ پرصاحب سجادہ کےقافلےنےنمازعصربھی اداکی اوربعدعصرشہرناندیڑکیلئےروانہ ہوگئے
 بعدہ 22 ستمبربروزجمعہ مبارکہ  قطب دکن لخت دل مدارالعٰلمین  حضورسیدنا میراں مکھاشاہ مداری قدس سرہ کی خانقاہ عالیہ کےصاحب سجادہ شیخ طریقت صاحب فضیلت حضرت صوفی شاہ سیدمحمدنصیرالدین الملقب بہ شمیم مکھاشاہی مداری کی پرخلوص دعوت پر خانقاہ ھذامیں حاضری ہوئی اورقبل نمازجمعہ سرکارمیراں مکھاشاہ کی مسجدمیں حضرت علامہ مفتی محمدقیصررضا علوی حنفی مداری نےاصلاح معاشرہ کےموضوع پرانتہائی فکرانگیز خطاب فرمایا جبکہ نمازجمعہ حضورصاحب سجادہ پیرصوفی سیدمحمدمجیب الباقی جعفری مداری کی اقتدامیں اداکی گئی 
بعدنمازجمعہ قطب دکن حضورمیراں مکھاشاہ مداری قدس سرہ کے آستانئہ عالیہ پرایک جم غفیرکیساتھ حضورصاحب سجادہ مکن پورشریف نےحاضری دی اور فاتحہ خوانی چادرپوشی وگل پوشی کابھی اہتمام کیاگیا اورجملہ حاضرین اورتمام مسلمانوں کی خیروعافیت کیلئے موصوف سجادہ نشین نےدعائےخیربھی فرمائی 
حضورصاحب سجادہ مکن پورشریف نے خانقاہ میراں مکھاشاہ کےسجادہ نشین حضرت سیدنصیرالدین المکھاشاہی المداری سے خانقاہی معاملات میں تبادلئہ خیالات  فرماتےہوئے موصوف کو مزیددینی خدمات کی ترغیب وتاکیدفرمائی 
بعدہ ناندیڑسے حضورصدرالمشائخ شہربھینسا تلنگانہ کیلئےروانہ ہوگئے اس جگہ آپ نےقیام کےدوران اس علاقےکے اہل سلسلہ بالخصوص خلفاءکی میٹنگ لی اورسلسلےکی سرگرمیوں کاجائزہ لیا بھینساسےآپ اپنےمریدین وخلفاءکی ایک جماعت کیساتھ اولا شریف ضلع نرمل تلنگانہ پہونچے واضح رہےکہ اس مقام پر حضورمدارالعٰلمین کےایک جلیل القدرخلیفہ حضورسیدنا غلام سرورطیفوری طبقاتی مداری کاآستانہ ھے حضورصدرالمشائخ نےحضرت موصوف کی مزارمقدس پرحاضری دیکرفاتحہ خوانی کی اورحاضرین کیلئےدعائےخیرفرمائی 
بعدہ بھینساتلنگانہ سے آپ شہر نظام آبادکیلئےروانہ ہوئےیہاں پرآپکےمریدین ودیگراہل سلسلہ پہلےسےہی آپکےمنتظرتھے آپ نےکچھ وقت تک احباب کےدرمیان تبلغ دین وترویج سلسلئہ مداریہ کےتعلق سےتبادلئہ خیال فرمایا اوربعدنمازظہرحیدرآبادکیلئےروا نہ ہوگئے یہاں بھی ارادت مندوں کوسلسلئہ مداریہ کی ترویج واشاعت کی تاکیدفرمائی اورپھر 26 ستمبر بروزمنگل 2017 عیسوی کی صبح ولئعہدحضرت علامہ سیدظفرمیجب مداری کیساتھ  دارالنورمکن پورشریف کیلئےروانہ ہوگئے جبکہ اپنےمعتمدعلیہ مریدوخلیفہ ترجمان سلسلئہ مداریہ حضرت علامہ مفتی محمدقیصررضا علوی حنفی مداری کواشاعت سنیت وترویج  سلسلئہ مداریہ کیلئے مہاراشٹرکی طرف روانہ کردیا

Friday, September 8, 2017

مناظرہ رضوی اور مداری

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

         *ماضی کےجھرونکےسے*

           *جان من تم بھی ہو*

از قـــــلم

*محمدحبیب الرحمٰن علوی المداری*

ترجمان آستانئہ عالیہ قدسیہ مداریہ
 ہمیں آپکوماضی بعیدکاایک واقعہ سناتاہوں وہ بھی اس امیدپر

*شایدکہ رفتہ رفتہ لگےجان تیرےدل کو*

یہ کوئی انیس سوبیاسی عیسوی کی بات ہیے اس وقت ضلع بریلی اور اسکےاطراف و اکناف میں کچھ ناعاقبت اندیشوں کی ریشہ دوانیوں کےسبب علماءومشائخ مداریہ کے سر ایک انتہائی اور گھٹیاالزام یہ منڑھاگیاتھاکہ مداری حضرات سیدالاولیاءسرکارسیدناغوث اعظم بڑےپیردستگیررضی اللہ تعالی عنہ کی شان اقدس میں نازیباکلمات استعمال کرتےہوئے آپکی توہین و تحقیرکرتےہیں معاذاللہ تعالی

جب یہ باتیں علماءومشائخ مداریہ زادھم اللہ شرفاکوپہونچیں توان اللہ والوں نےاس الزام کی شدیدتردیداورمذمت کرتےہوئےالزام عائدکرنےوالوں سےانکےالزام کاثبوت مانگتےہوئےانہیں چیلینج کیاکہ کسی ذمہ دار مداری عالم یاشیخ کی کوئی ایک تحریر یا تقریرپیش کریں جس میں سرکاربڑےپیرکی گستاخی کی گئی ہو
مداریہ کایہ کھلااور اعلانیہ چیلینج دیکھ کر بدباطن حواس باختہ ہوگئےاور اپناالزام ثابت نہ کرسکے ہنوز وہ بےبس اور لاچارہی ہیں

اپناالزام ثابت کرنےکےبجائےان بدباطنوں نےحضرات مداریہ پردیگرقسم کےبیشمار الزامات اور اتہامات عائدکرناشروع کردیا
جس کےنتیجہ میں علماءمداریہ اور حضرات رضویہ کےمابین مناظرہ کی صورت بن گئی
کئی مرتبہ مناظرہ کی بات ہوئی مگرسرخیل رضویہ مولانااختررضاخان ازہری صاحب اور انکےحواری کچھ نہ کچھ بہانہ سازی ہی کرتےرہیے تاہم الزام تراشی سےدست کش اور تائب بھی نہ ہوئے اس قسم کےحالات کودیکھتےہوئےآرپارکی فیصلہ کن بات کویقینی بنانےکی غرض سے مکنپورشریف کےایک مداری شیر *شیخ الشیوخ شمشیرحیدری حضور صوفی سیدمسعودعالم میاں جعفری المداری دامت برکاتہم*
اٹھے اور مکنپورشریف سےسیدھابریلی ازھری صاحب کےگھرپہونچ گئےاور ان سےدوٹوک بات کہی کہ آپ مناظرہ کیلیئےتیارہوجائیں اور ہرصورت مناظرہ کےاسٹیج پرموجودرہیں اور ابھی اسی وقت مجھےاپنی دستخط اور مہرکےساتھ اپنےمناظرہ کی شرکت والی تحریرلکھ کردیں ـــ مداری شیرحضورسیدمسعودعالم میاں قبلہ حفظہ اللہ ازہری صاحب کوان کےگھرانکےصوفہ پربیٹھ کرللکارتےرہیے مگر انہوں نےمناظرہ میں شرکت کی تحریرنہ دی

المختصر
جانبین کی مرضی سے ایک مناظرہ طےپاہی گیا جس کی انجام دہی کےلیئےجانبین کی مرضی اور منشاءکےاتفاق سےسرکارعطاءرسول خواجۂ ہندسیدناغریب نوازرضی اللہ تعالی عنہ کی مقدس نگری اجمیرمعلی کومنتخب کیاگیا

اس مناظرہ میں علماءمداریہ کی جانب سےبہ حیثیت مناظر *شیربیشئہ سنیت فاتح اجمیر حضور مخدومی ڈاکٹرسیــــدمرغوب عالم میاں جعفری المداری دامت برکاتہم و متعنااللہ بطول حیاتہ کاانتخاب ہوا*
جب کہ طبقئہ رضویہ سے *مولانامختاراحمدبہیڑوی مناظر اور انکےمعاون کے بہ طور *مناظراعظم ہندعلامہ شیخ مفتی محمدانتخاب حسین قدیری مجددمرادآبادی رحمۃاللہ علیہ* منتخب کئےگئے جب کہ حضرات رضویہ کےاسٹیج پرمولانااختررضاخان ازہری صاحب بھی بہ حیثیت سرپرست رضویہ بہ نفس وجسدِ خود موجودرہیے

علماءرضویہ ہی کی مرضی اور منشاءکواپناتےہوئے *غازی ملت حضورھاشمی میاں قبلہ اور شیخ الاسلام حضورمدنی میاں قبلہ* کومناظرہ کاثالث(جج) منتخب کیاگیا
جون کامہینہ تھا
غریب فاقہ مست مداری قلندروں کاقافلہ سخت گرمیوں کی لو ہواکےطوفانی جھکڑکی مصائب برداشت کرتےہوئےتاریخ متعینہ پرراجستھان کےریگزاروں سےگذرتاہوا بیت النوراجمیرشریف پہونچا
وہ مداری جن کےبدن پرصحیح ڈھنگ کاکپڑابھی نہیں تھا
جن کوآرام دہ سواری بھی میسرنہیں تھی
جنکےپاس کفایتی زاد راہ بھی نہیں تھا
جنکےساتھ مریدوں کابہت بڑالشکربھی نہیں تھا
جنکےقافلہ میں گنتی کے چندقلندران مست الست حضوربابائےقوم وملت سرکار سیدولی شکوہ میاں جعفری مداری حسان الہندسیدناسیدمعززحسین ادیب مکنپوری
شیخ الہندقطب وقت حضورسیدناسیدذوالفقارعلی قمرمکنپوری رضی اللہ تعالی عنھم اور شیربیشئہ سنیت حضورفاتح اجمیرڈاکٹرسیدمرغوب عالم میاں قبلہ
شمشیرحیدری حضورسیدی سرکارسیدمسعودعالم میاں قبلہ اور صرف چنددیگرسادات و علماءمداریہ ہی تھے

سبحان اللہ
حضرات مداریہ اگرچہ بہ ظاہربےسروسامان تھے
لاغرتھے
کمزورتھے
لیکن ان مٹھی بھرمداریوں کاایمان فولادسےزیادہ مضبوط تھا ہزارپہاڑوں سےبھی زیادہ اٹل ھا
ان کایقین غیرمتزلزل تھا
حقانیت انکےساتھ تھی
*اللہ رسول علی فاطمہ حسن حسین  کی نصرت و حمایت پراعتمادکلی انکےخون میں شامل اور ان کامتاع حیات تھا*
وہ مولائی تھے
وہ پنجتنی تھے
حالات اور زمانہ نیزمعاشی فاقہ مستی انکی راہ نہ روک سکی
پھٹےبوسیدہ کپڑے احقاق حق کےجذبہ کوسردنہ کرسکے
تنگ دستی اور مفلوک الحالی ابطال باطل کی فکرتبدیل نہ کرسکی ــــــ

سلــــــســـــــلـــــئہ عالیہ قدسیہ مداریہ کے اجراء اور عدم اجراءکوموضوع سخن بنایاگیا
اجمیــــــــرمعـــــــلی
میں مناظرہ ہوا اور نتیجتََااللہ پاک نےاپنےان نیک اور سچے بندوں کوفتح و نصرت عطاءفرمائی

*ثالثِ مناظرہ غازئ ملت حضورھاشمی میاں قبلہ دامت برکاتہم نے اپناحقِ ثالثی اداءکرتےہوئے مناظرین رضویہ سرپرستِ رضویہ ازہری صاحب
کی موجودگی میں اسی اسٹیج سے
 *فتح مداریت کااعلانِ عام فرمادیا*
ہوناتویہ چاہیئےتھاکہ مداریوں کی طرح اپنےہی مقررکردہ جج کےفیصلہ کو رضوی بھی تسلیم کرلیتے
لیکن ایساہوانہیں اس مناظرہ کی شکست اور ناکامی کی خفت مٹانےکےلیئے ان بدباطنوں نےبریلی ہی کےباشندہ جناب محمدغوث خان صاحب نامی ایک آدمی سےعلماءومشائخ مداریہ کی کتب سےچنداقتباسات نکال کرعلماءرضویہ سےان عبارات اور انکےقائلین کےمتعلق ایک استفتاءکروایا
جس کےجواب میں رضوی فتوی گاہوں سے کتبِ مداریہ کےان اقتباسات پرکفر گمرہی بدمذہبی کےفتوےصادرکردیئےگئے
پھرانہیں فتاوی کو
*فیصلہ شرعیہ دربارۂ مداریہ*
کےنام سےایک کتابچہ کی شکل میں شائع کردیاگیا
اس کتابچہ کی اشاعت کےبعد علماءومشائخ مداریہ نےاسکاجواب و رد
*صاعقہ برخرمنِ مفتیان رضویہ*
کےنام سےترتیب دےکرشائع کردیا
نتیجتََاعلماءرضویہ پرایک طویل سکوت اور جمودطاری ہوگیا

سنــ ۲۰۰۳/۴ ـــہء کی بات ہیےماہِ شوال میں مجھ فقیرمداری کواطلاع ملی کہ اس سال رمضان المبارک کےبابرکت مہینہ میں شہرِ بمبئی کےکچھ لوگوں نےمدارس کےسفراءکوچندہ کےساتھ ایک ایک عدد فیصلہ شرعیہ بھی دی ہیے  جس کاصاف مطلب یہ سمجھاگیاکہ اکیس بائیس سال کےبعد طاغوتی فتنہ نے ایک بارپھرانگڑائی لی ہیے اور امت کاسکون و اطمینان ڈائنامیٹ کرناچاہاہیے
سنــ ۲۰۰۳/۴ ـــہء میں مناظرہ اجمیرکوایک عرصہ گذرچکاتھا ہم لوگ پڑھ لکھ کرفارغ ہوگئےتھے
جوان ہوگئےتھے

*ساداتِ مکنپورشریف کاجذبئہ اتحاد*

مولاناصاحب قبلہ

بمبئی کےاس فتنہ کی تصدیقی خبرکےبعد میں فقیرمداری مکنپورشریف پہونچا
فیصلہ شرعیہ کی دوبارہ اشاعت کی اطلاع مکنپورشریف بھی پہونچ چکی تھی
محقق مداریت استاذالعلماءحضرت علامہ مولانامفتی *سیدمنــــــورعــــــــلی میــــاں قبلہ جعفری المداری دامت برکاتہم*
سےاس بابت میری طویل مشورتی گفتگوہوئی
دوسرےدن بعدنمازِعصر میں اور محقق عصرقبلہ دونوں مکنپورشریف کےایک انتہائی نیک بزرگ اور صالح شخصیت حضورسیدظہیرالمنعم المعروف بہ ببن میاں قبلہ علیہ الرحمہ سےملے اور فیصلہ شرعیہ کےجواب و رد کےلیئے نئی تحقیقات پرمشتمل مفصل کتاب کی ترتیب واشاعت کی اجازت طلب کی
میری زبان سےجیسےہی جواب و رد کاجملہ نکلا حضورببن میاں قبلہ علیہ الرحمہ نے سختی سےمنع کرتےہوئے ایسی کسی کتاب کولکھنےروک دیا
ہم دونوں واپس آگئے لیکن جب فیصلہ شرعیہ کی لگائی ہوئی آگ کی نئی لپٹیں چمنستانِ سنیت کوخاکسترکرنےلگیں اور سیدھےسادےسنی عوام فیصلہ شرعیہ کو اسلامی فتوی سمجھ کرگمراہ ہونےلگے توپھرمیں نےتحفظِ سنیت و صیانتِ مداریت کی خاطرمکنپورشریف کادوبارہ سفرکیااور حضورمحقق عصرقبلہ سےطویل مشورتی گفتگوکےبعد یہ بات طےپائی کہ اب ان حالات میں نئی تحقیقات کےساتھ فیصلہ شرعیہ کاشرعی محاسبہ ناگزیرہوگیاہیے لہذا اسکاردِبلیغ ہوناہی چاہیئے
جس کےبعدحضورمحقق عصرقبلہ دامت فیوضھم نےایک کتاب
*ضربِ یداللہی برمصنفینِ فیصلہ شرعیہ دربارۂ مداریہ*
مرتب فرمائی
جس کی کتابت طباعت نشرواشاعت ڈیزائننگ کی تمام ترذمہ داریاں فقیرمداری نےخود انجام دیں
وہ ایک وقت تھاکہ میں بذریعہ سائیکل رات میں بارہ کلومیٹرکاسفرطےکرکے دسمبرجنوری کی شدیدٹھنڈک میں کتاب کی کمپوزنگ کرنےجاتاتھا
بات بہت دور چلی جائےگی

الحاصل

*ضربِ یداللہی برمصنفینِ فیصلہ شرعیہ دربارۂ مداریہ*
چھپ گئی
شائع ہوگئی اور پھردنیاءنےدیکھاکہ جن لوگوں نےفیصلہ شرعیہ کو واقعتاشرعی فیصلہ سمجھ لیاتھاان لوگوں نےتوبہ کیااور لاکھوں لاکھ احبابِ اہلسنت مداریت کےحامی اور مداح و ناشرہوگئے
جناب من
یہ مداریت ہیے
*یہ اتناہی ابھرےگی تم جتنادباؤگے*

والسلام

*محمـــــدحبیب الرحمن علوی المداری*
دائرۃالاشراف
جھہراؤں شریف
سدھارتھنگر
یوپی
www.qutbulmadar.org
plz visit us:

Friday, August 18, 2017

آزادی وطن میں مشائخ مداریہ کا کردارو عمل

71 واں جشن یوم آزادی کے موقعہ پر 






۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*آزادئ وطن میں وابستگان سلسلہ مداریہ کا کردار و عمل*
🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳

از قلم 📝
*سید ازبر علی جعفری المداری*
 *دارالنور مکن پور شریف*
*ضلع کان پور یو پی انڈیا*
🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮🇳🇮

اٹھے جو ہاته کوئ عصمت وطن کی طرف
وہ ہاتھ کاٹ دو کچھ بھی نہ تم ملال کرو

نہ چھونے پائے وہ ہندوستان کا دامن
وطن پرستی میں دشمن کا ایسا حال کرو

آج ہمارے ملک میں 71 واں جشن یوم آزادی منایا جارہا ہے
آزادی کا لفظ پردہء ذہن پر آتا ہے تو دارالنور مکن پور شریف کے ان مظلوم سید زادوں  کے ظلم  کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے  اجسام ،   تڑپتے بلکتے چہرے ، جلتے گھر ،راکه کے ڈهیر میں تبدیل ہوئے چھپر،  روتے سسکتے  یتیم شہزادوں کے گالوں پر طمانچوں کے نشان ،   نرم و نازک جسم پر تازیانوں سے کھنچی کھال پر خون آلود برتوں کا تصور حاشیہء خیال میں جنم لینے لگتا ہے
 مظلوم کربلا کے وہ مظلوم بچے جنہیں پانی کے ایک ایک قطرے سے ترسایہ گیا
کسی کا صلیب و دار پر استقبال کیا گیا ،  تو کوئ گولیوں سے چھلنی کردیا گیا ،  کسی کو کالے پانی کی سزا سنائ گئی ، تو کوئ نذر آتش کیا گیا ،
کونسا وہ ظلم تھا جو قطب المدار کے شہزادوں پر نہیں ڈهایا گیا
مکن پور شریف میں ایک شور ماتم بپا تھا
جب انسانی خون سے انکی پیاس نہ بجھی ، جب گھر جلانے بستی ویران کرنے سے ان کے ناپاک جذبہء دل کو تسکین نہ ملی ،  تو اب وہ  درندہ صفت لوگ خانقاہ قطب المدار کی جانب بڑھے خانقاہی لائبریری کو نذر آتش کر دیا
 مقدس مقامات کی بے حرمتی کی حضرت خواجہ سید ابو محمد ارغوں جانشین اول قدس سرہ کا قائم کردہ مدرسہ مدارالعلوم کھنڈرات میں تبدیل کردیا ،   بادشاہ ابراہیم شرقی جونپوری کا نذرکردہ کوہ نور ہیرا روضہء مقدسہ سے اتارلے گئے اور بهی نادر اور قیمتی اشیاء لوٹ لیں
یہ نفرت و تعصب اور فسادات کی آگ صرف مکن پور شریف میں خانقاہ قطب المدار اور شہزادگان مدار ہی تک محدود نہ تھی اور نہ یہیں  ٹھنڈی  ہوگئی
بلکہ اس نفرت کی آگ نے پھیلتے پھیلتے پورے ملک میں جہاں جہاں مداری خانقاہیں ملیں، مداری چلے ملے،  مداری تکیے ملے ،مداری گدیاں ملیں ، مداری نشانات ملے مداری مشائخ ، مداری علماء و سادات مکن پور ملے ملنگ و فقیر ملے سب کو جلاکر خاکستر کردیا عوام سے مداریوں کو ڈھونڈه ڈھونڈھ کر قتل کردیا
اگر آپ پوچھیں کہ سلاسل اور بھی تھے خانقاہیں اور بھی تھیں مدارس و مکاتب اور بھی تھے علماء و مشائخ اور بھی تھے
مگر سلسلہ مداریہ ہی کو نشانہ بناکر صفحہ ہستی سے اس کا وجود کیوں مٹایا جا رہا تها اور انگریز سلسلہ مداریہ کا نام و نشان ختم  کیوں کرناچاہ رہے تھے
تو اس سوال پر میں اتنا کہوں گا کہ
میرے عزیز !!!!

جب اس ملک پر ظالم قابض ہوئے تو اپنے مشق ستم کا نشانہ بنانے کیلئے بلا تفریق مذہب و ملت ،،انسان ،، چنے "ہندوستانی انسان"
اور جب انسانیت  درندگی کے نو کیلے دانتوں سے پھاڑی اورنوچی جانے لگی ، جبرا کسانوں اور دستکاروں کی اشیاء اپنی مقرر کردہ قیمتوں میں خریدی جانے لگی اور کسانوں اور دستکاروں کو کسی دوسرے کے ہاته اچهی قیمت پر فروخت کرنے پر کوڑے مارے جانے لگے ، ذلتیں دی جانے لگیں
 تو توپوں کے دھانوں سے،  گولیوں کے نشانوں سے،
 موت کے ٹھکانوں سے
ملک کے باشندگان کو بچانے اور راحت دلانے کے لئے ہتهیلی پر جان لے کر اور کفن بر دوش ہوکر جو مردان مجاہدین آگے بڑهے تهے وہ سلسلہء مداریہ کے وابستگان تهے
تحریک آزادی کی بنیاد سب سے پہلے اگر کسی نے رکھی تھی
 تو وہ آزادی کے مجاہد اول
حضرت بابا *مجنوں شاہ مداری ملنگ* تھے  جو انگریزوں سے جنگ کے اول ہیرو تھے
1786 میں زخموں سے چور ہوکر مکن پور شریف آئے تو یہاں تین انگریز بھائیوں کی نیل کی کوٹهی تهی   آپ کو اس سرزمین پر ان کا وجود ٹھنڈی آنکھوں نہ بھایا
 چونکہ سادات مکن پور شریف کی سرپرستی حاصل تھی اس لئے آپ نے حضرت سید روح الاعظم میاں جعفری مداری علیہ الرحمہ والرضوان کو ساته لیکر ان تینوں انگریز بھائیوں میں سے ایک "پیٹر میکس ویل " کو قتل کردیا جب یہ خبر انگریزی حکومت تک پہونچی تو اس
نے مکن پور شریف پر چڑھائ کردی اور اس بستی کو برباد کردیا
 جسکی تفصیل
ان شاء اللہ اگے پڑھینگے
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*مجاہد اول حضرت بابا مجنوں شاہ  ملنگ مداری*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت بابا مجنوں شاہ مداری ملنگ .
 • .      1733عیسوی میں اس خاکدان گیتی پر رونق افروز ہوئے
عہد شباب میں منصب خلافت سے سرفراز ہوکر سلسلہء دیوانگان سلطانی کی قیادت سنبهالی
آپ کے ( رشدی) مورث اعلیٰ "حضرت سلطان حسن دیوان مداری"
کو ان کے عہد میں" شاہ شجاع " نے تبلیغی و اشاعتی اسفار کے لئے  کچه مراعات دی تهیں
اس زمانہ کی ایک سند محررہ 1659 عیسوی  راج شاہی کے دفتر میں موجود ہے   جس میں شاہ شجاع نے حضرت سلطان حسن دیوان مداری کو اختیار دیا تها : -
" *دفعہ اول* : -   تم جب کبهی لوگوں کی ہدایت یا سیر و سیاحت کے لئے شہروں ، دیہات ، اضلاع اور جہاں کہیں اپنی خوشی کے مطابق جانا چاہو تمہیں اختیار ہے کہ جلوس کا سارا ساز و سامان مثلاً علم ،جهنڈے ، پهریرے، بانس، عصا ، ڈنکا، ماہی ، مراتب اپنے ساته لے جاو-
*دفعہ چهارم* : -  جب تم ملک کے کسی حصہ میں جاو تو مالکان دیہہ اور کاشتکار تمہیں اشیائے خوردنی مہیا کرنے کا بند و بست کریں گے- "
حضرت بابا مجنوں شاہ ملنگ مداری اپنے مورث اعلیٰ حضرت شاہ سلطان حسن دیوان مداری کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ماہی،  مراتب،  ڈنکا اور نشان (علم) کے ساتھ شاہانہ کرو فر سے تبلیغ و رشد و ہدایت کے لئے اڑسہ،  بہار اور بنگال کے علاقوں میں تشریف لے جایا کرتے تھے
اور عوام ہندو مسلمان سب بلا تفریق مذہب و ملت ان سے عقیدت رکهتے تهے اور ان کا احترام کرتے تھے
یہی وجہ ہے کہ انگریزوں کے جبرو استبداد کے خلاف بلا کسی خوف و دہشت کے انہوں نے
.       1763  میں سب سے پہلے آزادی کی تحریک کی بنیاد رکھی اور رفتہ رفتہ اس تحریک میں ترقی ہوئ تو  1766 میں میکنیزی کو فیصلہ کن شکست دی 1769میں کمانڈر کیتھ کی فوج کو زبردست شکست دیکر اس کا بھی سرقلم کیا
.     1770 میں باقاعدہ ملنگوں اور مداری فقیروں کے علاوہ دیگر برادران وطن  کی ایک  جماعت لے کر بنگال سے بہار میں داخل ہوئے
کئی مہینوں تک وہ شمالی بنگال کے مختلف اضلاع اور ضلع ڈھاکہ میں  پرچم جہاد بلند کرتے رہے
.    1771 میں لیفٹنٹ ٹیلر کی فوج بھی شکست کھاکر بھاگی
 1772 میں حضرت بابا مجنوں شاہ مداری ملنگ نے ناٹو ر کی رانی بھوانی کو ایک خط سونپا جس میں ملک کی فلاح و بہبود کی ترجمانی کی حلفیہ بات لکھی تھی اور اس مقصد عظیم کیلئے
 ،، ہر ظلم گوارہ ، ہے کا مفہوم پیش کر کے ان سے مدد مانگی تھی
کئی انگریز کمپینوں نے کئی چھاونیاں ان مسلح فقیروں اور سنیاسیوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے تیار کیں  لیکن بابا ان کے لئے چهلاوہ بنے ہوئے تھے  انگریز اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو پار ہے تهے  اور بابا مجنوں شاہ بهی اپنی اس تحریک سے پیچھے باز نہ آتے تھے  اپنے مریدین و خلفاء کی ایک جماعت جیسے
کرم علی شاہ مداری  ، مومن علی شاہ مداری ، چراغ علی شاہ مداری ، ظہوری شاہ مداری، مطیع اللہ شاہ مداری،فرخند شاہ مداری عیسی شاہ مداری موسی شاہ مداری،  بدھوشاہ مدارئ ، پیر گل شاہ مداری، نکو شاہ مداری ، عمومی شاہ ، نورالحمد شاہ مداری ، وغیرھم کو لے کر سب سے پہلے آزادی کا بگل بجایا اور ملک کے مختلف حصوں اڑیسہ ،بنگال ، بہار ، آسام ، اودھ ،کرناٹک ، آندھرا اور پورے ملک سے غلامی کی زنجیریں کاٹنے کیلئے شہر شہر گاوں گاوں میں آزادی کا پرچم لہرایا
.      1776 میں فرنگیوں کو ایک اور شکست دی جس میں لیفٹنٹ رابرٹسن بھی شدید طور پر مجروح ہوا
.     29 دسمبر 1786میں لیفٹننٹ برمن کی فوج پر حملہ کیا
بالآخر اس مرد مجاہد وطن کو 1787میں  گولیوں سے چھلنی کردیا گیا اور مدار کا یہ شیر زخمی ہوگیا  تو اسے وصل حقیقی کا احساس و عرفان ہوا ،   اس نے مریدین و متعلقین کو وصیت کی ،  فرمایا کہ مجھے مکن پور شریف لے چلو اور میری تدفین وہیں عمل میں لانا
تین شبانہ روز کے بعد جب آپ مکن پور شریف آستانئہ قطب المدار پر حاضر ہوئے تو زخمی حالت میں بھی حضرت سید روح الاعظم میاں کو ساته لیکر ایک انگریز کو واصل جہنم کر دیا
اس کے بعد آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئ اور آپ واصل بحق ہوگئے
آپ کا آستانہء عالیہ مکن پور شریف میں مرجع خلائق ہے
جو مجنوں شاہ کی گڑهی کے نام سے مشہور ہے

مجنوں شاہ نے شجاعت دکھائ
اپنی ہستی وطن پہ لٹائ

یاد میں انکی محفل سجائیں
جشن آزادی ہم سب منائیں

حوالہ رود کوثر ، ہسٹری آف دا فریڈم ، مومنٹ آف انڈیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
  ۔۔
*حضرت احمد اللہ شاہ مداری
مدراسی*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1857ع       کا پہلا مجاہد آزادی اگر *حضرت احمد اللہ شاہ مدراسی* کو کہا جائے تو سو فیصد درست ہوگا
آپ 1203 ہجری میں اس دنیا میں تشریف لائے
والد محترم محمد علی شاہ نے خاندانی رسم و رواج کے مطابق پرورش فرمائ
چونکہ آپ خاندانی امیرورئیس تھے آپ کے دادا محترم سید جلال الدین عادل فرماں روائے گولکنڈہ سید قطب علی شاہ کی یادگار تھے
تعلیم و تربیت کے بعد تصوف کی طرف طبیعت مائل ہوئ اور دادا محترم سید جلال الدین عادل سے ٹیپو سلطان کا تخت و تاج لٹنے کا واقعہ سنا تو طبیعت بالکل مضمحل ہوگئی اور سب کچھ چھوڑ کر سیاحت اختیار کرلی
ٹونک (راجستھان ) پہونچے ٹونک سے آپ  جئے پور گئے حضرت سیدنا محراب علی شاہ قلندر مداری کا چرچہ سنا تو اکتساب فیض کیلئے آپ گوالیار پہونچے

پیرومرشد سید محراب علی شاہ قلندر مداری  کی خدمت میں پہونچے
اور بیعت کیلئے عرض کیا
پیرومرشد قدس سرہ نے فرمایا
احمد اللہ شاہ اس شرط پر مرید کرونگا کہ تم ملک کو انگریزوں سےآزاد کرانے کا وعدہ کرو تو بیعت کرونگا

اللہ اکبر یہ ہے سلسلہ مداریہ کی قربانیاں

مرید اپنے عہد میں سچا پکا صادق تھا
فورا شرط منظور کرلی
اور بیعت ہونے کے بعد آزادی کا بگل بجادیا
اور 1857 کی جنگ کا آغاز کردیا
پورے ملک میں آزادی کی تحریک چلا کر آپ جب بند یل کھنڈ میں راجہ پوائیں سے تعاون لینے کیلئے بندیل کھنڈ آئے  راجہ پوائیں اگر تعاون کیلئے تیار ہوجاتا تو شاہ مداری صاحب کو سانس لینے کا موقعہ ملتا مگر اس نے غداری کی اول تو بات کرنے کیلئے تیار نہیں ہوا اور جب ہوا بھی تو اندر سے حویلی کا دروازہ بند کراکے
اتنی گولیاں چلوائیں کہ آپ کا جسم چھلنی ہوگیا
راجہ بلوان سنگھ نے آپ کا سر اتارلیا جو صاحب کلکٹر شاہ جہاں کے سپرد کردیا
جسم اقدس کو آگ میں پھینک دیا گیا جس کے بالعوض برطاینہ سرکار نے 50000 نقد روپیہ اور خلعت فاخرہ راجہ پوائیں کو بھیجی
5 جون 1858  عیسوی 13 ذی قعدہ 1385 ہجری کو یہ سانحہء عظیم پیش آیا
انا للہ واناالیہ راجعون
آپ کے سر مبارک کو دریا پار محلہ جہان آباد مسجد متصل احمد پور کے پہلو میں دفن کردیاگیا
آپ کے مریدین  و خلفاء کی کثیر تعداد نے اس تحریک کو جاری رکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شمالی ہند کی مرکزی سرزمین مکن پور شریف کے سپوتوں نے اس تحریک  آزادی کا خوش دلی  کے ساتھ خیر مقدم کیا
مثلا حضرت سیدنا روح الاعظم مداری  حضرت سیدنا خان عالم مداری  حضرت سیدنا روح الاکبر مداری
حضرت سیدروح الاعظم مداری جو بڑی جائیداد کے مالک تھے انکی جائیداد پر قبضہ کرکے نیلام کردیا اورانکے عزیز دوست بانگی میاں کو عمر قید کی سزا سنا کر جزیرہء انڈمان ( کالا پانی) میں قید کرادیا وہیں ان کا انتقال ہوگیا

تحریک آزادی کا ایک اور مجاہد خان عالم میاں جعفری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ چھتیس مواضعات کے مالک تھے انکی کئی حویلیاں تھیں ایک بڑی حویلی جس میں اجلاس ہوا کرتا تھا اسی میں املی کا ایک درخت تها جس میں انکے ہاتھی بندھا کرتے تھے اسے ہتھنی املی کہاجاتاتھا انگریزی فوج نے حویلی کا محاصرہ کرکے اس املی کے درخت میں سید خان عالم میاں کے گھر کے 26 افراد کو باری باری پھانسی پر لٹکادیا
انگریزوں نے زبردست حملہ کیا تو خان عالم میاں زخموں سے چور راتوں و رات میوات چلےگئے گڑ گاوں علاقئہ الور میں قیام فرمایا اور یہیں آپ کا انتقال ہوگیا
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت سید روح الاعظم میاں
////////////////////////
آپ صاحب کرامت بزرگ تھے
جامع مسجد عالمگیری میں مراقبہ کررہے تھے انگریزوں نے آپ پر زبردست گولیاں چلائیں لیکن آپ پر ایک گولی کا بھی اثر نہ ہوا تب آپ کے بڑے بھائ حضرت خواجہ سید روح الامین نے فرمایا کیا آپ کو شہادت پسند نہیں؟   تب آپ نے ہاتھ سے تسبیح چھوڑدی اور شہید ہوگئے
آپ کے علاوہ سادات مکن پور شریف اور پورے سلسلہ مداریہ نے اس ملک کو آزاد کرانے میں جو مشقتیں اٹھائیں نہ کسی کو یاد نہ کوئ کہنے والا
نہ ہماری قربانیاں کسی کو یاد نہ ہمارے سلگتے گھروں کی تصویریں سلامت ،
 نہ نوجوانوں کی پیٹھ کی برتیں باقی ،
 نہ بچوں کی  چور چور ہڈیوں کا سرمہ موجود ، نہ بیواوں کے ماتم سے انسانیت کے ایوانوں  میں کہرام ،
نہ تاریخ کے اوراق پر آنسوؤں کی داستان الم ،
آج ہم بے آبرو ہیں تو وطن کی خاطر
جبکہ استقامت کا یہ حال تھا کہ کالے پانی کی سزائیں پھانسی کے تختے ، گولیوں کے نشانے ، توپوں کے دہانے ،
انکی ہمتوں کو  پست نہ کرسکے ہمت و حوصلہ اتنا کہ طوفان سے ٹکراکر اس ملک کی تقدیر کا فیصلہ کیا نہ کوئ دولت سے خرید سکا نہ لالچ سے  حد تو یہ تھی کہ ان آشفتہ نصیبوں پر ترس تک کھانے والا کوئ نہ تھا
پھر بھی یہی پیغام دیا کہ

اٹھے جو ہاته کوئ  عصمت وطن کی طرف
وہ ہاتھ کاٹ دو کچھ بھی نہ تم ملال کرو
نہ چھونے پائے وہ ہندوستان کا دامن
وطن پرستی میں دشمن کا ایسا حال کرو
اس ملک کی غیرت نے جب جب مداریوں کو آواز دی
مداریوں نے یہ نہ سوچا کہ کہاں پکارا جارہا ہے
بلکہ
صلیب و دار سہی دشت و کہسار سہی
جہاں بھی تم نے پکارا ہے جانثار چلے
سنی جو بانگ جرس تو بقتل گاہ جفا
کفن بدوش اسیران زلف یار چلے

اللہ پاک ہمارے ملک کو ترقیاں برکتیں عطا فرما
دہشت گردوں کی سازشوں کو ناکام فرما کر ہمارے وطن عزیز کی تقدیر میں امن و چین و سکون لکھ دے
آمین
ہندوستان زندہ آباد جشن یوم آزادی پائندہ باد

طالب دعا
 سید ازبر علی جعفری المداری
خادم  آستانئہ قطب المدار دارالنور مکن پور شریف ضلع کانپور یوپی انڈیا

www.qutbulmadar.org

یزید پلید مستحق لعنت ہے دلائل وشواھد کی روشنی میں ملاحظہ کریں.

****************************************



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*یزیدپلید مستحق کفرولعنت*www.qutbulmadar.org


از قلم 📝

*سید ازبر علی جعفری المداری دارالنورمکن پور شریف*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*اندهیر اف یہ کیا خلش بدر کر گئی*
*نانا سے دشمنی تهی نواسے کے  سر گئی*
.           ( علامہ"ادیب" مکن پوری )

*یزیدیت نے ابهر کر ڈبو دیا دیں کو*
*حسین ڈوبے تو اسلام کو ابهار گئے*

*کربلا ہی تک یزید و شمر ابن سعد تهے*
*کربلا کے بعد پهر شبیر ہی شبیر ہے*


،،یزید ،،
نام لیتے ،سنتے اور پڑھتے ہی ایک ظلم کا پیکر ، جبر واستبدادکی تصویر، مکروفریب کا رخ ، دہشت گرد کا چہرہ، عیاش ، زانی اور جعل ساز کی داستان ، قاتل ، جابر، خونی، دھوکے باز کاتصور، دشمن اہلبیت ،باغئ اسلام ، فاجر ، فاسق ، ملعون
 غرضیکہ ہر بری خصلت ، ،قبیح عادت ، اور مذموم حرکت ، فساق و فجار کی صفت ، سے متصف یزید پلید کی کالی لوکھٹ اور منحوس صورت کا خاکہ ذہن پر چھپنے لگتا ہے اور جلی بھنی ہڈیوں کا ڈھانچہ نظروں کے سامنے گھومنے لگتا ہے
یزید پلید پر لعنت سوبارلعنت ساتھ میں
وہ بھی ملعون زمانہ ہوگا جو اس ملعون کی محفلیں سجاتا  ہوگا وہ بھی بدبخت ہوگا جو اس بد بخت سے رشتہ جوڑتا ہوگا وہ بھی جہنمی کتا ہوگا جو اس جہنمی کتے  کو اپنا آقا مولی کہتاہوگا
  سانحہء کربلا کے بعد سے اب تک یزید پر لعنت بھیجی جارہی ہے اور بھیجی جاتی رہیگی بھیجنے والے جنم لے رہے ہیں اور صبح قیامت تک پیدا ہوتے رہینگے
کیونکہ
،،ہر نوع بشر کی آنکھ کے تارے ہیں حسین ،،
یزید کیلئے
اس سے بڑھ کر ذلت ورسوائ اور کیا ہوسکتی ہے کہ
ہر اک شریف ذہن سے یزید اتنا گرگیا
کسی نے اپنے لال کا یزید نام نہ رکھا
وہ کل بھی نامراد تھا وہ اب بھی نامراد ہے
حسین زندہ باد حسین زندہ باد

 یزید پلید ، ملعون ،باغئ قرآن  ،دشمن اہلبیت علیھم السلام، اور دشمن اسلام ،نے خاندان مصطفی پر، نونہالان چمن فاطمہ پر، شہزادگان مرتضی پر،کرب و بلا کی تپپتی ریت پر سفاکی ، درندگی اور گستاخی کی جو تاریخ رقم کی ہے اس کو دیکھ کر جبروتشدد کو بھی پسینہ آنے لگتا ہے ظلم و ستم منہ چھپانے لگتا ہے آفات و مصائب بهی شرم سے پانی پانی ہوجاتے ہیں مگر یزید تیری زبان بھی نہ تھکی قتل حسین کا آرڈر کرنے سے اور تقدس و عظمت مآب شخصیات و محبوبان خدا و رسول کو اذیتیں دلوانے سے تجه کو شرم بهی نہ آئ نہ قرابت رسول کا کوئ پاس و ادب ملحوظ رکھا ؟

 آلام و مصائب کے پہاڑ کے ٹوٹنے سے ، ہم شبیہ پیمبر  علی اکبر کے سینہ پر برچھی لگنے سے ان کے جسم اقدس پر گھوڑے دوڑنے سے ،
 قاسم کا سینہ چھلنی ہونے سے عون و محمد کے سر بکھرنے سے،
عباس کے بازو کٹنے سے، علی اصغر کی حلق چھدنے سے،
محبوب رسول  امام عالی مقام کے گھوڑے سے گرنے سے ، جسم اقدس کو گهوڑوں کی ٹاپوں سے روندا جانے سے ،سکینہ کے طمانچے کھانے سے ، زینب کے تڑپنے سے ، شہربانو کے مچلنے سے ،خیموں کے جلنے سے، امام سجاد کے غش پہ غش کھانے سے ،
اللہ ورسول کو کتنی تکلیف ہوئ ہوگی ؟   اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا !
یزید پلید کے دوسرے جرائم کے علاوہ
 اہلبیت اطہار کو یہ اذیت و تکلیف پہنچانا بهی یزید کے لعنتی ہونے کا سبب ہے
جب عام مسلمانوں کو تکلیف پہونچانا اللہ و رسول کو تکلیف دینا ہے  جیسا کہ ارشاد ہے
 *عن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم *ومن اذے مسلما فقد اذانی فقد اذے اللہ*
(سراج المنیر شرح جامع صغیر ص 280)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کونین صلی'اللہ تعالٰی علیہ و آلہ وسلم  ارشاد فرماتے ہیں
 کہ جس نے کسی مسلمان کو اذیت دی تو اس نے حقیقتا مجھے تکلیف پہنچائ اور جس نے مجھے اذیت پہنچائ تو اس نے در حقیقت اللہ کو اذیت پہنچائ
*من اذی شعرتہ منی فقد اذانی ومن اذانی فقد اذے اللہ*
فزاد ابو نعیم
 *فعلیہ لعنتہ اللہ* ۔
(سراج المنیر شرح جامع صغیر ص280)
امیرالمومنین حضرت علی مرتضی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
جس نے میرے ایک بال کو اذیت پہنچائ تو اس نے حقیقتا مجھے اذیت پہنچائ اور جس نے مجھے اذیت پہنچائ اس نے اللہ کو اذیت پہنچائ ابو نعیم کی روایت میں یہ بھی ہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو
ظاہر سی بات ہے کہ نورنگاہ مصطفی کو *الحسین منی وانا من الحسین* کے مصداق کو اذیتیں پہونچانے والا کتنا برالعنتی ہوگا ؟
بعض اکابرین امت نے یزید پر کفر تک کا حکم لگادیا ہے
جیسے کہ
 حضرت سیدنا امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ نے
 *ماقال الامام احمد بتکفیرہ کما ثبت عندہ نقل تقریرہ*
(شرح فقہ اکبر)
ص88
اسی طرح سے علامہ شیخ محمد بن علی الصبان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ
*وقد قال الامام احمد بکفرہ*
(اسعاف الراغبین )
ص 210
*وفقہ علی ذالک جماعتہ کابن الجوزی*
کفر یزید کے قول پر علماء کی ایک جماعت نے انکی موافقت کی ہے جیسے ابن جوزی وغیرہ
*وقالت طائفتہ انہ کافر سبط ابن الجوزی وغیرہ المشھور انہ لماجاء راس الحسین رضی اللہ عنہ جمع اھل الشام وجعل ینکتہ راسہ بالخیزران وینشدابیات الزبعری*
*لیت اشیاخی ببدرشھدواالابیات المعروفتہ وازادفیھما بیتین مشتملین علی صریح الکفر*
*وقال ابن جوزی فیما حکاہ سبطہ عنہ لیس العجب عن قتال ابن زیاد للحسین وانما العجب من خذلان  یزید وضربہ بانقضیب ثنایا الحسین وحملہ آل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعلی اقتاب الجمال*
(الصواعق المحرقہ) ص218

کفرکے ساتھ ساتھ اس پر لعنت کرنا جائز قرار دے دیا ہے
 چنانچہ حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت صالح رضی اللہ عنہ نے یزید پر لعنت کرنے کے بارے میں پوچھا تو حضرت امام احمد بن حنبل نے فرمایا
*یا بنی ھل یتولی یزید احد مومن باللہ ولم لا العن من لعنہ اللہ فی کتابہ*
*فقلت این لعن اللہ یزید فی کتابہ فقال فی قولہ تعالی*
*فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم اولئک الذین لعنھم اللہ فاصمھم واعمی ابصارھم فھل یکون فساد اعظم من ھزاالقتل*
 (الصواعق المحرقہ)
ترجمہ !
 بیٹا کوئ اللہ پر ایمان رکھنے والا ایسا بھی ہوگا جو یزید سے دوستی رکھے اور میں اس پر کیوں  لعنت نہ کروں جس پر اللہ نے اپنی کتاب میں لعنت بھیجی ہو
عرض کیا اللہ نے یزید پر اپنی کتاب میں کہاں لعنت بھیجی ہے ؟؟
تو فرمایا اس آیت ،،
*فھل عسیتم*
،، الخ
کہ پھر تم سے یہی تو توقع ہے کہ اگر تم کو حکومت مل جائے تو تم ملک میں فساد برپا کروگے اور قطع رحمی کروگے ایسے ہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے پھر انکو اندھا اور بہرہ کردیا
پھر امام صاحب رضی اللہ عنہ نے  فرمایا کہ بیٹا کیا قتل حسین سے بھی بڑھ کر کوئ فساد ہوسکتا ہے
دوسری جگہ ارشاد باری ہے
*ان الذین یوذون اللہ و رسولہ لعنھم اللہ فی الدنیا والآخرتہ واعدلھم عذابا الیما*

(سورتہ الاحزاب )

بیشک وہ لوگ جو اللہ و اسکے رسول کو اذیت پہنچاتے ہیں ان پر دنیا و آخرت میں اللہ کی لعنت ہے اور انکے لئے ذلت کا عذاب ہے
 اس آیت کریمہ کی رو سے یزید مستحق لعنت بھی ہوا اور جہنمی بھی
جیسا کہ اس آیت سے بھی ثابت ہے کہ اللہ ورسول کو ایذا دینے والے پر اللہ کی لعنت ہے یزید پلید سے بڑھ کر اللہ اور رسول کو تکلیف کس نے دی ہوگی ؟

حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ یہ آیت عبد اللہ بن ابی منافق اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئ کیوں کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا پر تہمت لگائ تھی
(در منثور ص 220 )

یہاں سے سمجه لینا چاہئے کہ قاتلان اہلبیت پر کس درجہ لعنتیں برس رہی ہونگی

  صحیحین ، وفاءالوفاء ، جذب القلوب ، صحیح ابن حبان، سراج المنیر،  جیسی کتنی ہی کتب معتبرہ و مستندہ سے ثابت ہے کہ اہل مدینہ کو اذیت دینے والوں ،  ستانے والوں ، برائ کرنے والوں ، ظلم سے خوفزدہ کرنے والوں ، پر اللہ اور اس کے فرشتو ں
اور تمام لوگوں کی لعنت ہے نہ اس کا فرض قبول ہوگا نہ نفل
وہ دوزخ میں رانگے کی طرح پگھیلیں گے
اور تاریخ شاہد ہے کہ یزید  مدینتہ المنورہ پر حملہ آور ہوا تو کونسا ظلم باقی رکھا
یزیدی فوج نے اہل مدینہ کو تہہ تیغ کردیا مدینہ منورہ کی مشہور شخصیتوں سیدنا فضل بن عباس ، سیدنا عبداللہ بن حنظلہ،  سیدنا عبداللہ بن مطیع ، کو
 ایک ایک کرکے شہید کردیا گیا یزیدی فوجیں مسلسل تین شبانہ روز تک مدینہ منورہ کو لوٹتی رہیں چوتھے دن امن ہوا
(تاریخ اسلام )
ص 372
ابن حزم نے اس خونیں کردار کا پہلو یہ بیان کیا ہے کہ یزیدی فوج کے گھوڑے مسجد نبوی شریف اور ریاض الجنہ کے خطے میں باندھے گئے جہاں انہوں نے لید کی اور  پیشاب کیا
، *(العیاذباللہ)*
کتے مسجد نبوی شریف کے اندر داخل ہوکر مقدس ستونو کے ساتھ پیشاب کرتے انہیں کوئ نکالنے والا نہ تھا
(خلاصتہ الوفا)
 حتی کہ زنا تک جائز کردیا
تین  دن تک مسجد نبوی میں اذان تک نہ ہوئ حضرت سعید ابن مسیب فرماتے ہیں کہ ان دنوں میں اکیلا مسجد نبوی کے منبر کے نیچے چھپا تھا جب اذان کا وقت ہوتا تھا تو قبر انور سے اذان کی آواز آتی تھی
(خلاصتہ الوفا) ص 51
یزید کے دور کے تین بد ترین کام
(1)حضرات اہلبیت علیھم السلا م اور آپکے رفقا انصارو اعوان کا قتل
(2 )کعبہ انور کو جلانا
(3 ) مدینتہ المنورہ پر فوج کشی اور قتل و غارت مسجد نبوی شریف کی بے حرمتی کی گئی
جسکی پیشین گوئ زبان رسالت اقدس نے پہلے ہی فرمادی تھی
*ھلکت امتی علی ایدی غلیمتہ من قریش*
(بخاری شریف کتاب العین)
میری امت کی تباہی چند قریشی چھوکروں کی وجہ سے ہوگی
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت میں ان لڑکوں کو صبیان کے لفظ سے ذکر فرمایا گیا ہے
*اضاعوالصلوتہ واتبعوالشھوات فسوف یلقون غیا*
البدایہ والنھایہ ص230
اسی عنوان کو علی بن معبد وابن ابی شیبہ نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس طرح بیان کیا ہے
*اعوذباللہ من امارتہ الصبیان قالوا وما امارتہ الصبیان قال ان اطعتموھم ھلکتم*
میں اللہ سے لڑکوں کی حکومت سے پناہ مانگتاہوں صحابہ نے عرض کیا لڑکوں کی حکومت کا کیا مطلب ؟
فرمایا اگر تم انکی اطاعت کروگے تو ہلاک ہوجاوگے
حضرت حافظ ابن حجر سیدنا ابو ہریرہ حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنھما کی ان روایات کا خلا صہ اس طرح بیان فرماتے ہیں
*و فی ھذا اشارہ الی ان اول غلیمتہ کان فی سنتہ ستین یزید و ھو کذالک*
اور اس میں اشارہ ہے کہ ان نو عمر لڑکوں میں پہلا لڑکا یزید تھا اور وہ ویسا ہی تھا جیسا حدیث شریف میں فرمایا گیا
علامہ بدرالدین علیہ الرحمہ اس حدیث امارتہ الصبیان کی تشریح لکھتے ہیں
*واولھم یزیدعلیہ مایستحق*
ان بچوں میں پہلا یزید ہے اس پر وہی پڑے جس کا مستحق ہے
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے سید عالم و عالمیان صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے
*لایزال امرھذہ الامتہ قائمابالقسط حتی یکون اول من یثلمہ رجل من بنی امیہ یقال لہ یزید*
(البدایہ والنھایہ )
ج 8 231ص
میری امت کا حکم ہمیشہ انصاف کے ساتھ رہے گا یہانتک کہ پہلا وہ شخض جو اس کو تباہ کریگا بنو امیہ سے ہوگا جسے یزید کہا جائیگا
اس سے بڑھ کر وہ کونسی علامتیں ہو نگی جس سے یزید پہچانا جائیگا اور وہ کون سے افعال ہونگے جس کی وجہ سے لعنت کی جائیگی ؟؟
*فقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وھو مغضب فقال مابال اقوام یوءذوننی فی قرابیتی ومن اذانی فقد اذے اللہ*
(زرقانی علی المواہب)
186ص

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور آپ سخت غصہ میں تھے فرمایا ان لوگوں کے بارے میں کیا حال ہے جو میری قرابت کے بارے میں مجھے اذیت پہونچاتے ہیں یادرکھو جس نے مجھے اذیت پہنچائ اس نے اللہ کو اذیت پہونچائ
مندرجہ بالاحدیث پاک کا سیاق و سباق بھی سمجھتے چلیں زرقانی علی المواہب کی حدیث ہے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابو لھب کی بیٹی سبیعہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تو دوزخ کے ایندھن کی بیٹی ہے یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور فرمایا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
یاد رکھو جس نے مجھے اذیت پہنچائ اس نے اللہ کو اذیت پہنچائ
*خوب غور کرلیجئے* !!!

بلا شبہ ابو لھب جہنم کا ایندھن ہے
لیکن جب لوگوں نے اسکی بیٹی حضرت سبیعہ کو جہنم کے ایندھن کی بیٹی کہا تو یہ بات حضور کی اذیت کا سبب بنی حالانکہ بات غلط نہ تھی البتہ لوگوں کا اس طرح کہنا درست نہ تھا
اس سے اندازہ کیجئے کہ جنہوں نے حضور کے جگر کے ٹکڑوں کو اذیتیں پہنچائیں
وہ سرکار صلی اللہ علیہ  وسلم
کی اذیت کا سبب بدرجہ اولی ہوئے کہ نہیں ؟۔
علامہ سعد الدین تفتازا نی صاحب شرح عقائد فرماتے ہیں کہ
 *لعنتہ اللہ علیہ و علی انصارہ واعوانہ*

(شرح عقائد )

اللہ کی لعنت ہو اس پر اسکے دوستوں پر
صاحب نبراس شارح شرح عقائد
فرماتے ہیں کہ
 *وبعضھم اطلق اللعن علیہ*
اور بعض علماء نے یزید پر لعنت کا اطلاق ثابت کیا ہے حضرت محدث ابن جوزی نے باقاعدہ ایک کتاب ہی اس مسئلہ میں لکھی ہے
*الرد علی المتعصب المانع علی ذم الیزید*
یزید پر لعنت کر نے والوں میں حضرت قاضی ابو یعلی رضی اللہ عنہ بھی ہیں
مندرجہ بالا دلائل سے یہ بات پایہء ثبوت کو پہونچ چکی ہے کہ اللہ ورسول کو اذیت پہونچانے والوں پر اللہ و رسول اس کے تمام  ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہے
تو پھر اب یزید پر لعنت بھیجنے کیلئے
 بولتی زبانیں گونگی کیوں ؟  چلتے قلم خشک کیوں ؟
مصلحت کی آنکھ سب کچھ دیکھ رہی ہے کچھ بھی نہ دیکھ کر
آخر ایسا کیوں ؟؟
کسی افراسیاب کا خوف ؟
 یا کسی یزید وقت کی تقلید ؟
یا وقت کے ہاتھوں بک گئے ؟

*لٹتا ہے فاطمہ کا چمن چپ ہے کائنات*

😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭
ہجری 61 سے لیکر آج تک کیا کربلا بند ہوئ ؟
جہاں ایک بھی سید موجود  وہاں ایک کربلا ہے
 آخر یہ کربلا سیدوں کا ہی مقدر کیوں ؟
اسلام کے بدلے دشنام کیوں؟ قرآن کے بدلے جان کیوں ؟
محبت کے بدلے نفرت کیوں ؟
سکھ کے بدلے دکھ کیوں ؟
علوم کے بدلے حلقوم کیوں ؟
چین کے بدلے حسین کیوں ؟
کیا عترت نبی کا یہی حق ہے ؟
للہ انصاف سے کام لو شافع حشر کا سامنا کرنا ہوگا
کل یزید حملہ آور تھا آج یزیدیت

ادیب ہو نہ بپا کربلا کہ پھر کچھ لوگ
حسینیت سے ہیں الجھے یزید ہی کی طرح

کیا فاطمہ کے لال کا اب بھی حق نہیں پہچانا جائیگا ؟

کیا پھر کربلا بپا ہوگی ؟
اگر ہو تو ہوتی رہے
کچھ خوف نہیں

نازش مشرقین والے ہیں
شاہ بدروحنین والے ہیں
ہم کو منصف یزید کا کیا ڈر۔
 ہم مداری حسین والے ہیں

 للہ حسنیت کے دامن میں آجاو
عترت کا حق پہچانو
اللہ پاک ہم سب کو حسینی بنائے حسینی رکھے حسینی اٹھائے
آمین بجاہ سید المرسلین وآلہ الطیبین وابنہ مدارالعالمین

طالب دعا
*سید ازبر علی حسنی حسینی جعفری ارغونی شکوہی مداری*
*خادم آستانہءقطب المدار*
*دارالنور  مکن پور شریف*
*کان پور نگر  یو پی  انڈیا*
www.qutbulmadar.org
pesh karda
syed zafar mujeeb madari wali ahad khanqahe madariya makanpur
📱 9838360930