Type Here to Get Search Results !

Dargha Zinda Shah Madar makanpur

Hindustan k Pahele Sufi buzurg Aur awwal daayie islam Hazrat Syed Badiuddin ahamad QutbulMadar Zinda Shah Madar Halabi o shami :

Emaane abu taalib 4

ایمان ابو طالب

: ایمان ابو طالب رضی اللہ تعالی عنہٗ پر میرا موقف:-


در بار ایمان ابو طالب اہل سنت میں تین گروہ پائے جاتے ہیں۔ ایک ایمان کا قائل ہے دوسرا کفر پرانتقال کا اور تیسرا گروہ سکوت اختیار کرتا ہے۔

ہم ایمان ابو طالب کے قائلین کے گروہ کے طرف دار ہیں۔ جو لوگ کفر کے قائل ہیں ان سے صرف نظر کرتے ہیں اور ان کے اس عمل کو رسول اور آل رسول کی نا راضگی کا سبب جانتے ہیں۔

الحاصل میرے نزدیک سیدنا ابو طالب مؤمن ہیں۔

محمد شفیق حنفی

سلام مسنون
               الہی آبرو رکھ لیجیئو ایمان والوں کی
               یہ دنیا کر رہی ہے ذکر ایمان ابوطالب

📚ایمان کا لغوی معنیٰ اور اسکی تحقیق:-

ایمان امن سے ماخوذ ہےاور امن کا معنی ہے نفس کا مطمئن ہونا، اور خوف کا زائل ہونا، امن، امانت اور امان اصل میں مصادر ہیں۔ امن انسان کی حالت امن کو کہتے ہیں، انسان کے پاس جو چیز حفاظت کے لیئے رکھی جائے اس کو امانت کہتے ہیں۔
ایمان کا استعمال کبہی اس شریعت کو ماننے کے لیئے کیا جاتا ہےجس کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پاس سے لے کر آئے۔ (اکابرین کے نزدیک) تصدیق بالقلب، اقرار باللسان،اور عمل بالارکان میں سے ہر ایک پر ایمان کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ تصدیق بالقلب پر ایمان کا اطلاق قرآن مجید کی اس آیت میں ہے:
🌟اولئك کتب فی قلوبھم الایمان (مجادلہ : ۲۲)
وہ لوگ جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت فرمادیا۔
                      ( المفردات :علامہ راغب اصفہانی)

۱) ایمان تصدیق ہے علامہ زمخشری نی اساس میں اسی پر اعتماد کیا ہے۔ اور اہل علم میں سے اہل لغت کا اسی پر اتفاق ہے، بعض محققین نے کہا ہیکہ ایمان کا معنی تصدیق ہو تو یہ بنفسہ متعدی ہوتا ہے، اور جب اسکا معنی اذعان (ماننا، قبول کرنا) اور اعتراف ہو تو لام کے ساتھ متعدی ہوتا ہے۔ ازہری نے کہا ہے اللہ نے بندے کو جس امانت پر امین بنایا ہے اسمیں صدق کے ساتھ داخل ہونا ایمان ہے، اگر بندہ جسطرح زبان سے تصدیق کرتا ہے اسی طرح دل سے بہی تصدیق کرے تو وہ مومن ہے۔ اور جسکا عمل اسکے برعکس ہے(وہ امانت کو ادا نہیں کر رہا) وہ منافق ہے۔ علامہ زبیدی کہتے ہیں کہ کبہی صرف زبانی اقرار پر بھی ایمان کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
🌟ذالك بانھم اٰمنواثم کفروافطبع علی قلوبھم(منافقون۳)
  یہ اس وجہ سی ہیکہ وہ(زبان)سے ایمان لائے پہر انھوں نے (دل) کا کفر (ظاہر) کیا تو انکے دلوں پر مہر کر دی گئی۔
   
۲) سعدالدین تفتازانی نے کہاہیکہ  ایمان کا حقیقی معنی تصدیق ہے۔
۳) زجاج نے کہا: نبی کریم جو دین لے کر آئےہیں اس پر اعتقاد رکھنے اور دل سے اسکی تصدیق کرنے پر ایمان کا اطلاق کیا جاتا ہے۔
       (تاج العروس ج ۹ص۱۲۵ علامہ زبیدی حنفی)


📚  ایمان کے شرعی معنی اور اسکی تحقیق:-
ایمان کے شرعی معنی میں اہل قبلہ کے چار قول ہیں:
۱) ایمان قلب کا فعل ہے۔
۲) ایمان زبان سے اقرار کا نام ہے۔
۳) ایمان اقرار باللسان اور معرفت بالقلب کا مجموعہ ہے۔
۴) ایمان تصدیق ، اقرار، اور اعمال کے مجموعہ کا نام ہے۔

👆🏻ہم یہاں پر پہلے قول کو اختیار کرتے ہیں۔ اور اپنے اس موقف پر قرآن و حدیث اور ائمہ سے دلائل پیش کرتےہیں:

اول ایمان قلب کا فعل ہے، اور اسمیں دو نظریے ہیں

(الف) محققین، امام اشعری،قاضی عبدالجبار،ابو اسحاق اسفرائنی حسین بن فضل اور دیگر ائمہ کا یہ مسلک ہےکہ ایمان صرف تصدیق بالقلب کا نام ہے۔
(ب) جہم بن صفوان کا نظریہ ہیکہ ایمان فقط دل سے اللہ کی معرفت کا نام ہے۔ اور زبان سے اقرار کرنا شرط نہیں۔ حتّی کے جس شخص کو دل سے اللہ کی معرفت ہو وہ زبان سے اقرار نا کرے اور اسی حال پر مر جائے وہ بھی مومن کامل ہے۔

🌹🌹🌹(ایک اہم وضاحت)🌹🌹🌹
مومن ہونے کیلیئے فقط جاننا کافی نہیں بلکہ ماننا ضروری ہے۔
ایمان کی تعریف میں جو تصدیق بالقلب معتبر اس سے مراد علم، معرفت اور جاننا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد اللہ تعالی کی وحدانیت کو تسلیم کرنا ہے۔ اور نبی کرےم کے دعوی نبوت کو تسلیم کرنا ہےاور آپ کو مخبر صادق ماننا ہے، کیونکہ بعض کفار بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جانتے تو تھے لیکن وہ مومن نہیں تہے۔ اسکی مثال قرآن مجید میں اسطرح سی ہے:
🌟الذين اٰتینٰھم الکتاب یعرفونهٗ کما یعرفون ابناءھم(بقرہ:۱۴۶)
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس نبی کو ایسے پہچانتی ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔
       ( عمدةالقاری ج اص۱۰۵-۱۰۲، علامہ عینی)

ایمان کی حقیقت فقط تصدیق بالقلب ہے اس پر قرآن مجید سے استشہاد :
🌟۱) اولئك کتب فی قلوبھم الایمان (مجادلہ : ۲۲)
🌟۲) قالت الاعراب اٰمنا قل لم تؤمنوا ولکن قولوا اسلمنا ولما یدخل الایمان فی قلوبکم (حجرات: ۱۴)
دیہات کے لوگوں نے کہاہم ایمان لائے، اے محبوب آپ فر ما دیجیئے تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یہ کہو کہ ہم نے اطاعت کی ہے، اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔
🌟۳) قالوا اٰمنا بافواھھم و لم تؤمن قلوبھم (مائدہ:۴۱)
انہوں نے اپنے منہ سے کہا ہم ایمان لائے ہیں،حالانکہ ان کے دل مومن نہیں۔

ان آیات میں ایمان کا محل قلب کو قرار دیا گیا ہےاور قلب میں تصدیق ہوتی ہے، اقرار کا محل زبان اور ارمال کا تعلق باقی اعضاء سے ہو تا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ایمان صرف تصدیق بالقلب کا نام ہے۔
ایمان کی حقیقت فقط تصدیق بالقلب ہے اس پر حدیث رسول سے استشہاد :

🌠"الاسلام علانیة والایمان فی القلب"
                 (الحدیث متفق علیہ)
ترجمہ:
اسلام اعلانیہ اظہار کا نام ہے اور ایمان کا تعلق دل کے ساتھ ہے۔


اب ہم سیدنا خواجہ ابو طالب رضی اللہ عنہ کے وہ اقوال و اشعار پیش کرتے ہیں جن میں اللہ کی توحید اور اسکے حبیب کی رسالت کا اقرار بہی موجود ہے۔


📢اقرار توحید و رسالت:
📌لقد اکرم اللہ نبی محمد
 فاکرم خلق اللہ فی الناس احمد
📌وشق لہ من اسمہ لیجلہ
 فذوالعرش محمود ہذا محمد  
                                      (دیوان ابی طالب ۱۲)
ترجمہ:بے شک اللہ نے محمد نبی کو تمام مخلوقات سے زیادہ اکتم و اشرف قرار دیا ہے۔
اور آپ کا اسم گرامی اللہ کے اسم گرامی سے مشتق ہےوہ عرش پر محمود ہے اور آپ محمد ہیں۔  

📢اقرار دین محمد یعنی دین خدا اسلام:
📌و لقد علمت بان دین محمد
      من خیرادیان البریہ دینا
   ( سیرت الحلبیہ ج۱ص۲۸۰،الاصابہ ج ۱ ص۱۱۶)

ترجمہ: میں اچھی طرح جانتاہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین دنیا کے تمام ادیان سے بہتر ہے۔

📢اقرار محمد رسول اللہ بالتحقیق:
📌۱) انت النبی محمد    
         قوم اعز سوّد
آپ نبی محمد ہیں آپ بزرگ روشن پیشانی والے سردار ہیں۔
📌۲) الم تعلموا انا وجدنا محمد
         نبیا کموسی خط فی اول الکتب
ترجمہ:
کیا تمہیں خبر نہیں کے ہم نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایسا نبی پایا ہیکہ موسی کی طرح اگلی کتابوں میں انکا حال لکھا ہے۔


کفار کا عہد نامہ ضائع ہونے پر
📢📢احقاق حق ابطال باطل نبی کے غیب دانی کااعتراف:
📌وقدکان امرالصحیفةعبرة
متی یخبرغائب القوم یعجب
📌محااللہ منہا کفرھم وعقوقہم
ومانقموامن ناطق الحق معرب
📌فاصبح ما قالوا منالامرباطلا
ومن یختلق مالیس بالحق یکذب
              (کامل ابن اثیر ، الاستیعاب ج۲ ص۹۲)

ترجمہ:
اس دستاویزکا قصہ بھی مقام عبرت بن گیا،غیب کی خبر پر قوم کو نہایت تعجب ہوا- اللہ نے انکے کفر وباطل اورحق کے مخالفت کے کلمات کو نیست و نابود کردیا، ان کی بات باطل ہو گئی کیون نا ہو جو حق کے خلاف کہے گا جھوٹا بنیگا۔

📝خواجہ ابو طالب کی وصیت کااہم اقتباس جو جناب ابو طالب کے ایمان کی کامل دلیل ہے:

📝انه قال لما حضرت ابو طالب ...............  ................  ......................و قد جاءنا بامرناقبلہ الجنان و انکرہ للسان مخافتہ الثنان
                   (مواہب الدنیہ ج۱ ص ۱۴۰،زرقانی                          ج  ۱ ص ۲۳۸،سیرت الحلبیہ ج۱ ص ۲۸۳)

وصیت فرماتے وقت آپنے یہ الفاظ کہے:
دل نے انکی (نبی کریم کی) بات تسلیم کر لی ہے لیکن مخالفین کی وجہ سے زبان پر نہیں لا سکتا۔


 اب فیصلہ آپ خود فرمالیں جناب ابو طالب اپنی قلبی کیفیت بیان فرما رہے ہیں "دل نے رسول اللہ کی دعوت قبول کرلی ہے"(تصدیق بالقلب) پایا گیا۔ اور یہی ایمان ہے۔ اور خواجہ ابو طالب کے مؤمن ہونے کا منہ بولتا ثبوت ۔

💉آخری وقت میں جناب ابو طالب کے لیئے کلمہ تلاش کرنے والےزمانہ ھذا کے محققین کی نظر:

فاضل بریلوی رحمہ اللہ عیسائیوں کے اسلام قبول کرنے اور کلمہ نا پڑھنے کے متعلق اشاد فرماتے ہیں کہ وہ بےشک مسلمان ٹہرینگے اگر چہ کلمہ طیبہ کا ترجمہ نا جانیں، بلکہ اگرچہ کلمہ طیبہ بھی نا پڑھا ہوکہُاتنا بھی کہنا کہ میں نے وہ دین چہوڑ کر دین محمدی قبول کیاانُکے اسلام کے لیئے کافی ہے۔
محیط اور نفع الوسائل میں ہے
"الکافر اذا اقرا بخلاف ما اعتقد یحکم باسلامہ"
ترجمہ:
یعنی کافر جب اپنے دین باطل کے خلاف اقرار کرلےتا اس کے اسلام کا حکم دیا جائیگا۔
                                   (فتاوی افریقہ ص ۱۶۹)

🙏🏿جناب من !فیصلہ کریں خواجہ ابو طالب کا بتوں سے بیزاری اور کفار مکہ کے اعتقادات سے بریت ان کے ایمان کا مستلزم ے یا نہیں؟؟؟

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.